BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 December, 2007, 20:22 GMT 01:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بحالی خیرات میں نہیں مانگتے‘

معزول چیف جسٹس طارق پرویز
’برطرفی کے اعلامیہ میں حکومت سے ایک اہم غلطی سرزد ہوگئی‘
پشاور ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس طارق پرویز نے کہا ہے کہ وہ اپنی بطورِ چیف جسٹس بحالی خیرات میں نہیں مانگتے کیونکہ اُنہیں غیر آئینی اقدام کے ذریعے اُن کے عہدے سے ہٹایا گیا۔

بدھ کے روز پشاور ہائی کورٹ کے بار روم کے اچانک دورے کے دوران وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ جن کے پاس انہیں ہٹانے کا اختیار نہیں تھا وہ اُن لوگوں سے بحالی کا مطالبہ نہیں کریں گے‘۔

اس موقع پر وکلا ء کی بڑی تعداد بار روم میں جمع ہوگئی اور معزول چیف جسٹس کے خطاب کے بعد وکلاء اُنہیں جلوس کی شکل میں اُن کی رہائشگاہ چھوڑنے گئے ۔

معزول چیف جسٹس نے کہا کہ اُن کا اور جسٹس شاہجہاں خان کی برطرفی کا اعلامیہ دس نومبر ہی کو جاری کردیا گیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ ان دونوں
کا نام منگل کے روز جاری ہونے والی برطرف شدہ ججوں کی فہرست میںں شامل نہیں‘ ۔

اس حوالے سے مزید بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ دس نومبر کو جاری کیے گئے برطرفی کے اعلامیہ کی وجہ سے حکومت سے ایک اہم غلطی سرزد ہوئی ہے ۔’اگر مجھے دس نومبر کو برطرف کیا گیا تو پھر پشاور ہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس طلعت قیوم قریشی کس طرح تین نومبر کو بطورِ چیف جسٹس حلف لیے سکتے تھے‘۔

اسی سے ملتی جُلتی بات کا حوالہ دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سینیئر ترین ججوں ، جسٹس رانا بھگوان داس اور جسٹس جاوید اقبال کو اسی لیے تین نومبر ہی کو برطرف کیا گیا کیونکہ اس کے بعد ہی جسٹس عبد الحمید ڈوگر چیف جسٹس آف پاکستان کا پی سی او کے تحت حلف لے سکتے تھے۔

 اگر مجھے دس نومبر کو برطرف کیا گیا تو پھر پشاور ہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس طلعت قیوم قریشی کس طرح تین نومبر کو بطورِ چیف جسٹس حلف لیے سکتے تھے۔
معزول چیف جسٹس طارق پرویز

اس موقع پر معزول چیف جسٹس طارق پرویز نے جمعیت علماءِ اسلام کے اپنے دھڑے کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے اُس بیان کا ، کہ جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ ہٹائے گئے ججوں میں سے بیشتر نے پی ۔ سی ۔ او ۔ ہی کے تحت پہلے بھی حلف لیا تھا ، جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ اُس وقت پی سی او کے تحت حلف لینے والے ججوں نے آئین کے تحفظ کا حلف لیا تھا‘۔

اسی حوالے سے اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مولانا فضل الرحمان نے تو خود بھی پی سی او کے تحت منعقد ہونے والے انتخابات میں حصہ لیا تھا اور بعد میں لیگل فریم ورک آرڈر کو آئینی تحفظ دینے کے لیے سترہویں ترمیم منظور کرائی اور آئین میں شق نمبر دو سو ستر سی کا اضافہ بھی کیا جس میں تحریر ہے کہ جن ججوں نے پی سی او کے تحت حلف لیا تھا اُن کا وہ حلف آئین کے تحت لیا گیا حلف تصور کیا جائے گا‘۔

آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ آزاد عدلیہ کے بغیر انتخابات بے معنی ہونگے ۔ لہٰذا ، اُن کے بقول ، ’اگر بینظیر بھٹو ، مولانا فضل الرحمان اور قاضی حسین احمد انتخابات میں حصہ لے بھی لیں تو اگر کسی ایک دن صدر مشرف آئندہ حکومت کو آئین کی شق اٹھاون دو بی کے استعمال سے ختم کردیں گے اور ایسے میں پی سی او کے تحت حلف جج ، جنہوں نے مشرف کے تحفظ کی قسم کھائی ہوئی ہے ، کیسے صدر مشرف کے خلاف فیصلہ دیں گے‘۔

اسی بارے میں
اب تک 48 ججوں نےحلف لیا ہے
05 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد