انتخابات: اپوزیشن میں اتفاق رائے کا فقدان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اختلاف آج بھی اسی مقام پر کھڑی ہے جہاں تین نومبر کو تھی۔ نہ ایک انچ آگے نہ دو انچ پیچھے۔ جتنا اختلاف اس وقت ہنگامی حالت کے فورا بعد تھا اتنا آج بھی ہے۔ نہ کچھ زیادہ نہ کچھ کم۔ حزب اختلاف جتنی تقسیم اس وقت بھی تھی آج بھی ہے۔ لیکن جس واحد چیز میں یقینا کمی آئی ہے وہ شاید عوام کے اس پر اعتماد میں ہے۔ اس کی بڑی وجہ ایک ماہ سے زیادہ کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اس کا صدر پرویز مشرف کے زیر انتظام عام انتخابات میں مشترکہ طور پر حصہ لینے یا نہ لینے پر اتفاق رائے کا فقدان ہے۔ افسوس اس بات پر نہیں کہ وہ انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں یا نہیں لے رہے بلکہ خلش صرف یہ ہے کہ جب بھی مشترکہ لائحہ عمل ملکی سیاسی صورتحال میں کسی بہتری کی ممکنہ وجہ بن سکتا ہے حزب اختلاف اس موقع کو بغیر کسی ندامت ضائع کر دیتی ہے۔ ’اے لاسٹ آپرچونٹی‘۔ اس اتفاق کی پہلی امید ماضی قریب میں امید دونوں سابق وزراء اعظموں کی ملک میں موجودگی سے ہوا۔ سمجھا گیا ہے کہ شاید ملک کے باہر رہتے ہوئے ’میثاق جمہوریت‘ جیسی بلند وبالا کاغذی باتیں کرنے والے جب عملی کارروائی کا وقت آئے گا تو کچھ مل کر کر پائیں گے۔ لیکن قدرت کو یہ شاید ابھی منظور نہیں۔ اس کے بعد ایک امید کی اور کرن اپنے واضح مخالف موقف کے باوجود گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں زرداری ہاؤس میں حزب اختلاف کے اہم رہنماؤں کی ملاقاتوں سے پیدا ہوئی۔ شاید اے آر ڈی، اے پی ڈی ایم اور جے یو آئی ایک مصمم ارادے اور موقف کے ساتھ سامنے آئیں۔ انتظار ہونے لگا، ’چارٹر آف ڈیمانڈ‘ کے سامنے آنے کا۔ اتفاق رائے کی امید تو ماٹھی تھی ہی لیکن پھر نہ جانے کیوں۔ آٹھ رکنی کمیٹی کے تین روزہ مذاکرات کے آغاز پر ہی اس کے نتیجے کا احساس ہوگیا اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ بات وہیں آن رکی جہاں پہلے سے پھنسی ہوئی تھی۔ نہ ادھر ہوئی اور نہ ادھر۔ وکلاء کی بائیکاٹ کی اپیلوں، ججوں کی ’قربانی‘ اور سول سوسائٹی/ طلبہ/ صحافیوں کے احتجاج نے بھی کسی بھی جماعت کو اپنا موقف تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا، جو جس کا موقف تھا وہ ہے۔ تو جب حزب اختلاف کا یہ حال ہے تو حکومت سے پھر اس احتجاج کے نتیجے میں کسی تبدیلی کی کیا توقع، جب اپنا ہی گھر منقسم ہو تو مخالف پر اس کا کیا دباؤ۔ کل جماعتی جمہوری تحریک یعنی ’اے پی ڈی ایم‘ کا اب ایک اجلاس اتوار کو منعقد ہوگا جس میں اس ڈیڈ لاک کو توڑنے کے لیے کوئی نیا لائحہ عمل سوچا جائے گا۔ ’چارٹر آف ڈیمانڈ‘ والی ترکیب تو تمام سیاسی جماعتوں کو کسی ایک موقف پر لانے میں کوئی خاطر خواہ کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ اگر کسی معاملے میں متفقہ فیصلہ نہ ہوسکے تو پھر دوسرا راستہ اکثریت کی رائے ہوتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اے آر ڈی یا اصل میں پیپلز پارٹی اگر انتخابات میں ’بطور احتجاج‘ حصہ لینے کے فیصلے پر برقرار رہتی ہے تو پھر کیا اے پی ڈی ایم بھی انتخابی میدان میں کود پڑے گی۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق بہتر یہی ہوگا کہ مسلم لیگ (ن) کو اپنے قائدین کی شرکت کے بغیر انتخابات میں بھرپور حصہ لینا چاہیے تاکہ ’کنگز پارٹی‘ کو خالی میدان نہ ملے۔ پیپلز پارٹی کی سوچ کے مطابق تو بائیکاٹ نو جنوری کو انتخابی نتائج دیکھ کر بھی کیا جاسکتا ہے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کی جانب سے بائیکاٹ نہ کرنے والے امیدواروں سے حلف لینا کہ وہ منتخب ہونے کے بعد ججوں کے مسئلے کو ضرور اٹھائیں گے بھی ایک بہتر سٹریٹجی قرار دی جا رہی ہے۔ لیکن بظاہر حکومت کی کوشش دکھائی دیتی ہے کہ بات اس وقت تک پہنچنے ہی نہیں دینی چاہیے۔ اس کے اس اعتراف کو کہ وہ ’اچھے ججوں‘ کی بحالی سے متعلق سوچ رہی ہے اور سعودی سفیر کی معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے غیرمتوقع ملاقات اس بات کے اشارے ہیں کہ پس پردہ کسی حل کی کوششیں جاری ہیں۔ اس ساری صورتحال میں تاہم سب سے زیادہ متاثر عمران خان اور ان کی تحریک انصاف دکھائی دیتی ہے۔ اگرچہ اس کا کاغذات نامزدگی جمع نہ کرانے کا فیصلہ اصولی طور پر تو درست دکھائی دیتا ہے لیکن سیاسی مصلحتوں سے بھری پاکستانی سیاست میں اسے جلد بازی بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ شاید ججوں میں سے بھی چند واپس لوٹ آئیں، سعودیوں کی مہربانی سے چیف جسٹس کا معاملہ بھی نمٹ جائے لیکن انتخابی شیڈول واپس ہو اس امکان کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ خود حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں میں بھی اکثر میں اب شاید اس ایک بات پر غیرمعمولی طور پر اتفاق رائے پیدا ہو جائے کہ انتخابی شیڈول پر دوبارہ سے عمل نہیں ہونا چاہیے۔ |
اسی بارے میں چارٹر آف ڈیمانڈ کے نکات پر اتفاق06 December, 2007 | پاکستان ’چارٹر آف ڈیمانڈ‘ : پہلا دور مکمل04 December, 2007 | پاکستان الیکشن بائیکاٹ، اپوزیشن کی سوچ بچار 20 November, 2007 | پاکستان حکمران مسرور، اپوزیشن مایوس28 September, 2007 | پاکستان انتخابات:شرکت کا فیصلہ ابھی نہیں20 November, 2007 | پاکستان عام انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل08 December, 2007 | پاکستان بینظیر، نواز نامزدگی کی تیاری22 November, 2007 | پاکستان انتخابات:’حصہ لینا نہ لینا برابر ہے‘25 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||