’ججوں کی باعزت برخاستگی ہو‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نگران وزیر قانون افضل حیدر نے کہا ہے کہ حکومت نے کسی جج کو برطرف یا ریٹائر نہیں کیا بلکہ وہ تمام جج جنہوں نے تین نومبر کو جاری ہونے والے پی سی او کے تحت اپنے عہدے کاحلف نہیں لیا تھا، عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے تحت اپنے عہدوں سے برخاست کیے گئے ہیں۔ بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ انکی وزارت نے صرف عدالت عظمی کے فیصلے کی روشنی میں ان ججوں کی قانونی حیثیت کے بارے میں اطلاعاتی نوٹسز جاری کیے ہیں لیکن انکی برخاستگی، ریٹائرمنٹ، گھروں سے بے دخلی یا اس نوعیت کے دیگر تمام امور سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان تمام ججوں کی’ باعزت برخاستگی‘ چاہتی ہے۔ جب ان سے دریافت کیا گیا کہ ایک طرف وہ باعزت برخاستگی کی بات کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب اعلی عدالتوں کے بعض ججوں کے گھر زبردستی خالی کروانے کی کوشش کی جارہی ہے ،تو وزیر قانون کا کہنا تھا کہ ججوں کی رہائشگاہوں کے معاملات متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور سینئر ججوں پر مشتمل ایک کمیٹی کے سپرد ہوتے ہیں ار وہی یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کس جج کو کون سا گھر الاٹ ہو گا اور کس جج کو کب گھر خالی کرنا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وزارت قانون ان سابق ججوں کی پنشنز اور دیگر مراعات کے بارے میں پالیسی تیار کرنے میں مصروف ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ پی سی او کے تحت حلف نہ لینے والے ججوں نے حلف لینے سے انکار کیا۔ ان کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے دو جج صاحبان کے علاوہ کسی جج نے حلف سے انکار نہیں کیا بلکہ حکومت نے ان ججوں کو حلف لینے کی دعوت ہی نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے لیکن یہ تعداد کتنی ہو گی اور کب بڑہائی جائے گی، اسکا فیصلہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدلحمید ڈوگر اور صدر مملکت پرویز مشرف باہمی مشاورت سے کریں گے۔ . برخاست کیے گئے ججوں کی واپسی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر وفاقی وزیر قانون نے کہا ’میری تجویز ہے کہ ان میں سے اچھے ججوں، یعنی ان ججوں کو جن کی تربیت پر سرکار کے خزانے سے رقوم خرچ ہوئی ہیں، انکی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے‘۔ تاہم انہوں نے ان ججوں کی بحالی کے طریقہ کار اور نظام الاوقات سے گریز کیا۔ |
اسی بارے میں ’آزاد عدلیہ نہیں، آزاد جج چاہئیں‘11 April, 2007 | پاکستان بان کی مون پر پاکستان ناراض07 November, 2007 | پاکستان خلیل رمدے، فقیر کھوکھر کی ملاقات10 November, 2007 | پاکستان ’آپ جیسے بزرگوں پر فخر ہے‘30 November, 2007 | پاکستان ’منصفانہ انتخاب کے لیے آزاد عدلیہ لازم‘06 December, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||