BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 December, 2007, 17:29 GMT 22:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ججوں کی باعزت برخاستگی ہو‘

حلف نے لینے والے ججوں کی بحالی کے لیے تحریک جاری ہے
نگران وزیر قانون افضل حیدر نے کہا ہے کہ حکومت نے کسی جج کو برطرف یا ریٹائر نہیں کیا بلکہ وہ تمام جج جنہوں نے تین نومبر کو جاری ہونے والے پی سی او کے تحت اپنے عہدے کاحلف نہیں لیا تھا، عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے تحت اپنے عہدوں سے برخاست کیے گئے ہیں۔

بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ انکی وزارت نے صرف عدالت عظمی کے فیصلے کی روشنی میں ان ججوں کی قانونی حیثیت کے بارے میں اطلاعاتی نوٹسز جاری کیے ہیں لیکن انکی برخاستگی، ریٹائرمنٹ، گھروں سے بے دخلی یا اس نوعیت کے دیگر تمام امور سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان تمام ججوں کی’ باعزت برخاستگی‘ چاہتی ہے۔

 حکومت ان تمام ججوں کی باعزت برخاستگی چاہتی ہے
وزیر قانون

جب ان سے دریافت کیا گیا کہ ایک طرف وہ باعزت برخاستگی کی بات کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب اعلی عدالتوں کے بعض ججوں کے گھر زبردستی خالی کروانے کی کوشش کی جارہی ہے ،تو وزیر قانون کا کہنا تھا کہ ججوں کی رہائشگاہوں کے معاملات متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور سینئر ججوں پر مشتمل ایک کمیٹی کے سپرد ہوتے ہیں ار وہی یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کس جج کو کون سا گھر الاٹ ہو گا اور کس جج کو کب گھر خالی کرنا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ وزارت قانون ان سابق ججوں کی پنشنز اور دیگر مراعات کے بارے میں پالیسی تیار کرنے میں مصروف ہے۔

وکلا عدلیہ کی بحالی کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں

انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ پی سی او کے تحت حلف نہ لینے والے ججوں نے حلف لینے سے انکار کیا۔ ان کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے دو جج صاحبان کے علاوہ کسی جج نے حلف سے انکار نہیں کیا بلکہ حکومت نے ان ججوں کو حلف لینے کی دعوت ہی نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے لیکن یہ تعداد کتنی ہو گی اور کب بڑہائی جائے گی، اسکا فیصلہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدلحمید ڈوگر اور صدر مملکت پرویز مشرف باہمی مشاورت سے کریں گے۔ .

برخاست کیے گئے ججوں کی واپسی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر وفاقی وزیر قانون نے کہا ’میری تجویز ہے کہ ان میں سے اچھے ججوں، یعنی ان ججوں کو جن کی تربیت پر سرکار کے خزانے سے رقوم خرچ ہوئی ہیں، انکی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے‘۔

تاہم انہوں نے ان ججوں کی بحالی کے طریقہ کار اور نظام الاوقات سے گریز کیا۔

پاکستان سپریم کورٹپاکستانی عدلیہ پر دبا‎ؤ
پاکستانی عدالتی میدان میں آج سیاسی جماعتوں سے لے کر باوردی صدر تک رجوع کر رہے میں۔
ججوں کی ملاقات
جسٹس رمدے کو حلف دلوانے کی کوشش؟
’انکل شکریہ۔۔۔‘’انکل شکریہ۔۔۔‘
افتخار چوہدری کی بیٹی کا ججوں کو خط
وکلاء کا احتجاج’لچک نہ دکھائیں‘
آزاد عدلیہ کے بغیر منصفانہ انتخابات ناممکن
اسی بارے میں
بان کی مون پر پاکستان ناراض
07 November, 2007 | پاکستان
’آپ جیسے بزرگوں پر فخر ہے‘
30 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد