انتخابات:شرکت کا فیصلہ ابھی نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ آیا جنوری کے انتخابات میں حصہ لیا جائے گا یا نہیں۔ پیپلز پارٹی کی مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی نے معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور دیگر جج صاحبان کی نظربندی کی مذمت کرتے ہوئے ان کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ اجلاس میں مرکز اور چاروں صوبوں میں قائم کی گئی نگران حکومتوں کو رد کیا گیا اور اسے مسلم لیگ (ق) کا ہی تسلسل قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے مشوروں کے ساتھ نگران حکومتیں قائم کی جائیں۔ مجلس عاملہ کے اجلاس میں کہا گیا کہ صدر مشرف کی سربراہی میں شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے اس لیے وہ وردی اتار دیں اور صدارتی منصب سے مستعفی ہو جائیں تاکہ پاکستان کے عوام آزاد طریقے سے اپنی قیادت کا انتخاب کر سکے۔ کراچی میں پارٹی کی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد ایک پریس بریفنگ میں بینظیر بھٹو نے کہا: ’ہم نے اپنی پارٹی کے رہنماؤں سے انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کے معاملے پر رائے طلب کی ہے اور اس کا فیصلہ ایک دو روز میں کر لیا جائے گا‘۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن کا کہنا تھا کہ حکومت نے انتخابات کو’چوری‘ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور قومی اسمبلی کے 108 حلقوں میں ’اس بات کی منصوبہ بندی کی گئی ہے کہ سرکار کے حمایتی امیدواروں کے لیے پچیس ہزار جعلی ووٹ بھگتائے جائیں گے۔ ہم اس منصوبے کو الیکشن کمیشن کے سامنے بھی رکھیں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے حوالے سے ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے، غیر جانبدار الیکشن کمیشن قائم نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی بلدیاتی ادارے معطل کیے گئے ہیں۔ بینظیر بھٹو نے صحافیوں پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ٹی وی چینلز کو سنسر شپ کا نشانہ بنایا جارہا ہے اس حد تک کہ انہیں بند کیا گیا تاکہ انہیں معاشی طور پر کمزور کیا جاسکے۔انہوں نے کہا وہ سمجھتی ہیں کہ یہ سب کچھ اس لیے کیا جارہا ہے تاکہ عوام کی مقبولیت سب کے سامنے ظاہر نہ ہوسکے اور حکمران کامیابی سے انتخابات میں دھاندلی کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ جمہوریت پسند قوتوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا جائے تاکہ مشترکہ ایجنڈہ پر تبادلہ خیال کیا جاسکے اس سلسلے میں ان کی میاں نواز شریف سے بھی بات ہوئی ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے سعودی عرب کے حالیہ دورے پر تبصرے کرتے ہوئے بینظیر بھٹو نے مسکراتے ہوئے کہا کہ جنرل مشرف سعودی عرب میں خدا کی بارگاہ میں حاضر ہونے گئے ہیں اگر وہ نواز شریف سے ملاقات کرتے ہیں تو وہ اس کا خیرمقدم کریں گی تاہم ان کی میاں نواز شریف سے جو بات چیت ہوئی ہے انہوں نے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ قومی مصالحتی آرڈیننس کے تحت یہاں موجود نہیں ہیں اور سمجھتی ہیں کہ ان پر دائر مقدمات جھوٹے ہیں وہ اس سے ڈرتی نہیں ہیں۔ صدر پرویز مشرف کی اہلیت سے متعلق سپریم کورٹ سے درخواست واپس لینے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان کے وکیل نے عدالت میں دلائل نہیں دیئے تھے۔ جب پی سی او واپس لیا جائیگا اور پارلیمنٹ موجودہ اقدامات کو قانونی تحفظ دینے کی کوشش کریگی تو ’ہم یہ درخواست پھر سے دائر کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ بینظیر بھٹو نے کہا کہ ان کی امریکی سفیر سے تین ملاقاتیں ہوئی ہیں، جن میں پہلی ملاقات میں انہیں اٹھارہ اکتوبر کو ہونے والے بم دھماکے کے بارے میں اعتماد میں لیا گیا تھا اور انہیں بتایا تھا کہ انہوں نے غیرملکی تفتیش کا مطالبہ کیوں کیا۔ دوسری ملاقات ایمرجنسی کے نفاذ کے بارے میں تھی اور تیسری ملاقات نیگرو پونٹے کے دورے کے بعد کی صورتحال پر کی گئی تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے مجلس عاملہ کے اجلاس میں ایمرجنسی کا نفاذ واپس لینے ، آئین کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کا مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا کہ عوام سے چھینے گئے حقوق واپس کیے جائیں۔ اجلاس میں اس بات کا عزم کیا گیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی جمہوریت کی بحالی، قانون کی حکمرانی اور غیرجانبدرارنہ انتخابات کے لیے اپنی کوشش جاری رکھے گی۔ کراچی میں بلاول ہاؤس میں منگل کی شام جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا جس کی صدارت بینطیر بھٹو نے کی جبکہ تمام سینئر رہنما اس اجلاس میں شریک ہوئے۔ بینظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ حکومت نے انتخابات کو ’چوری‘ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور قومی اسمبلی کے اہم حلقوں میں ’اس بات کی منصوبہ بندی کی گئی ہے کہ پچیس ہزار جعلی ووٹ بھگتائے جائیں گے‘۔ اس اجلاس میں اتحاد برائے بحالی جمہوریت یعنی آے آر ڈی کی جانب سے اعلان کردہ آل پارٹیز کانفرنس کے بارے میں بھی فیصلہ متوقع تھا۔ اس سے قبل بینظیر بھٹو نے گزشتہ شب ٹیلیفون پر مسلم لیگ نواز سے رابطہ کیا اور کل جماعتی کانفرنس اور انتخابات کے بارے میں بات چیت کی۔ قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے اس ملاقات کی تصدیق کی اور کہا کہ منگل کے اجلاس میں ملک کی موجودہ صورتحال پر غور کیا جائیگا۔ ان کا کہنا تھا کہ آل پارٹیز کانفرنس کب اور کہاں منعقد کی جائے گی اس کے بارے میں ابھی طے ہونا ہے جب اس کا فیصلہ ہوجائیگا تو تمام سیاسی جماعتوں کو اس میں شرکت کی دعوت دی جائےگی۔ اس سے قبل بینظیر بھٹو نے گزشتہ روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے بات چیت کررہی ہیں کیونکہ وہ یہ معلوم کرنا چاہتی ہیں کہ کسی ایک ایجنڈے پر کوئی اتفاقِ رائے ہوسکتا ہے یا نہیں۔ وہ نہیں چاہتیں کہ جلد بازی میں کوئی اعلان کردیا جائے اور بعد میں عوام کو مایوسی ہو۔ گزشتہ روز پاکستان پیپلزپارٹی کی چئرپرسن بینظیر بھٹو نے امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے کہا تھا کہ وہ جنرل پرویز مشرف سے بات چیت کے بعد اب اس عمل کو دہرانے کا ارادہ نہیں رکھتیں۔ بینظیر بھٹو نے کہا تھا کہ ’ہم جمہوریت کے روڈ میپ پر یقین رکھتے ہیں لیکن ہمیں یہ یقین نہیں کہ جنرل مشرف یہ روڈ میپ دے سکتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ اب کیا وجہ ہے کہ مذاکرات کیے جائیں ’ہم نے مذاکرات کیے کیونکہ ہم عدم استحکام نہیں چاہتے تھے۔‘ | اسی بارے میں ایمرجنسی ختم کریں: نیگرو پونٹے19 November, 2007 | پاکستان بینظیر کی سات روزہ نظر بندی کا حکم،کارکنوں کی گرفتاریاں13 November, 2007 | پاکستان صدر مشرف اب مستعفیٰ ہو جائیں، بینظیر بھٹو کا مطالبہ 13 November, 2007 | پاکستان بینظیر بھٹو کی نظر بندی ختم15 November, 2007 | پاکستان بےنظیر کے مضامین، بیرون ملک مہم15 November, 2007 | پاکستان ’نگران حکومت کا حلف غداری‘16 November, 2007 | پاکستان بینظیر، نیگروپونٹے کی بات چیت16 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||