BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 December, 2007, 16:11 GMT 21:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عام انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل

وکلاء احتجاج (فائل فوٹو)
اعتزاز احسن، علی احمد کرد اور طارق محمود کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا
آل پاکستان وکلاء کنونشن نے تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹھ جنوری کو ہونے والے عام انتخابات کا بائیکاٹ کریں اور وکلاء کی عدلیہ کی بحالی کے لیے جدوجہد میں شامل ہوں۔ اگر سیاسی جماعتوں نے ایسا نہ کیا تو اس سے وفاق کو نقصان ہوگا۔

سینچر کو آل پاکستان وکلاء کنونشن لاہور ہائی کورٹ سے کچھ فاصلے پر واقع پنجاب بارکونسل کی عمارت میں ہوا جس میں ملک بھر سے وکلاء نے شرکت کی۔

کنونشن میں مختلف قراردادریں منظور کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ آٹھ جنوری کو ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کریں اور وکلاء کی عدلیہ کی بحالی کے لیے جاری تحریک میں شامل ہوجائیں۔

کنونشن کے شرکاء نے سیاسی جماعتوں کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے تاریخ کے اس اہم موڑ پر وکلاء کی آواز میں آواز ملا کر عدلیہ کی آزادی اور جمہوریت کی بحالی کی جنگ نہ لڑی تو اس سے وفاق کو نقصان ہوگا۔

کنونشن میں شریک وکلاء نے عہد کیا کہ وہ اپنی سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر اپنی صفوں میں مکمل اتحاد کو برقرار رکھیں اور عدلیہ کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں۔

کنونشن میں معزول ججوں سے سرکاری رہائشگاہیں خالی کرانے اور ان سے مراعات واپس لینے کی مذمت کی اور اعلان کیا کہ اگر یہ سلسلہ بند نہ کیا گیا تو پاکستان کے وکلاء ان ججوں کی رہائش گاہوں پر خود پہرہ دیں گے۔

 وکلاء تحریک کا دوسرا مرحلہ بارہ دسمبر سے دوبارہ شروع ہوگا
سپریم کورٹ بار کے سابق صدر حامد خان

کنونشن میں آرمی ایکٹ، لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز ایکٹ میں ترامیم کو مسترد کردیا جبکہ شریف الدین پیرزادہ اور اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم کو نا پسندیدہ شخصیت قرار دیا گیا۔ کنونشن میں پاکستان میں مقیم برطانوی سفیر کے عدلیہ کے بارے میں بیان کی مذمت کی گئی۔ کنونشن نے اعتزاز احسن، علی احمد کرد اور طارق محمود اور دیگر وکلاء کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

کنونشن میں سپریم کورٹ بار کے سابق صدر حامد خان نے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وکلاء تحریک کا دوسرا مرحلہ بارہ دسمبر سے دوبارہ شروع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس طارق پرویز بارہ دسمبر کو لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن سے خطاب کریں گے۔ ان کے بقول چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری کی اجازت سے جسٹس طارق پرویز لاہور آرہے ہیں اور چیف جسٹس پاکستان نے ان کو ہدایت کی ہے کہ ’وکلاء تک میرا پیغام پہنچاؤ‘۔

حامد خان کا کہنا تھا کہ صدر پرویز مشرف کی اہلیت کے بارے میں سپریم کورٹ کا گیارہ رکنی بینچ سماعت کر رہا تھا اور اس بینچ کے سات ارکان نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا اور چار ججوں نے حلف اٹھایا ہے۔ ان کے بقول صدر مشرف کے خلاف سات ججوں جبکہ حق میں چار ججوں نے فیصلہ دیا ہے۔

کنونشن میں پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین مرزا عزیر بیگ، پنجاب بارکونسل کے وائس چیئرمین طارق جاوید وڑائچ سمیت دیگر وکلا رہنماؤں نے خطاب کیا۔

جیلپابندِ سلاسل
وکلاء سے ملاقات کی اجازت، دوائیوں کی نہیں
معزول جسٹس خواجہ محمد شریف’وکلاء کی قربانی‘
’سیاسی جماعتیں خدا کے لیے وکلاء کا ساتھ دیں‘
جسٹس(ر)وجیہہ الدینبراہِ راست چیلنج
وکلا کا صدر مشرف کو براہِ راست چیلنج ہے۔
فائل فوٹوجسٹس کی حمایت
ملک بھر میں وکلاء کا احتجاج تحریک بن گیا
مشرف کی تصویر نذر آتشوکلاء کا احتجاج
مختلف شہروں میں وکلاء نے جلوس نکالے
اسی بارے میں
فوج قومی نہیں قابض ہے: وکلاء
22 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد