BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 November, 2007, 07:23 GMT 12:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایمرجنسی مخالف وکلاء، کارکن رہا

سندھ ہائیکورٹ بار کے صدر ابرار حسن
کوشش کی کہ اپنے نظریے پر ثابت قدم رہیں:ابرار حسن
سندھ اور بلوچستان حکومت کی جانب سے گرفتاری کے احکامات واپس لیے جانے کے بعد متعدد وکلاء اور سیاسی کارکنوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔

سندھ میں رہائی پانے والے وکلاء میں سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر ابرار حسن، کراچی بار کے صدر افتخار جاوید قاضی، رشید اے رضوی، اختر حسین، ابو انعام، حفیظ لاکھو شامل ہیں۔ان وکلاء کو ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں حیدرآباد میں قید سندھ ترقی پسند پارٹی کی چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی اور عوامی تحریک کے دس سے زائد کارکنوں کو رہا کیا گیا ہے جبکہ جماعت اسلامی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کراچی سے گرفتار پچاس سے زائد کارکنوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ایمرجنسی کے خلاف احتجاج کے دوران بلوچ قوم پرست رہنما حاصل بزنجو اور یوسف مستی خان کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جن پر ملک سے غداری کے الزام میں مقدمہ دائر ہونے کی وجہ سے ان کی رہائی عمل میں نہیں آئی ہے۔

رہائی کے بعد سندھ ہائیکورٹ بار کے صدر ابرار حسن کا کہنا ہے’ہم نے کوشش کی کہ اپنے نظریے پر ثابت قدم رہیں، جتنا چل سکتے ہیں اس راستے پر چلیں اس دوران جو بھی صعوبتیں اور مصیبتیں آتی ہیں وہ اس کا حصہ ہیں‘۔

یہ وکلاء ایمرجنسی محالف مظاہروں کے دوران گرفتار کیے گئے تھے

انہوں نے کہا کہ ’بہت غور اور فکر کے بعد کوئی قدم اٹھانا پڑے گا جس سے مقصد سے بھی انحراف نہ ہو اور عوام کو بھی انصاف کے حصول میں کوئی دشواری نہ ہو‘۔

بلوچستان میں بھی ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد گرفتار قریباً ایک سو سینتیس سیاستدانوں، سیاسی کارکنوں اور وکلاء کو رہا کر دیا گیا ہے لیکن اب بھی کچھ وکیل اور سیاستدان جیلوں میں قید ہیں۔ پیر کی رات اور منگل کی صبح رہائی پانے والے سیاستدانوں میں پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے چئرمین محمود خان اچکزئی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے حبیب جالب ایڈووکیٹ اور اختر لانگو کے علاوہ ایک سو چار سیاسی کارکن شامل ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق ایک سو چار سیاسی کارکنوں کے علاوہ تینتیس وکلاء کو بھی رہا کر دیا گیا ہے لیکن اب بھی کچھ وکیل اور سیاستدان قید ہیں جن میں پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما عبدالرحیم مندوخیل بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہادی شکیل ایڈووکیٹ اور بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ نمایاں ہیں۔

مچھ جیل میں کل سولہ وکلا میں سے پندرہ نے رہائی سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ ہادی شکیل ایڈووکیٹ کو ان کے ساتھ رہا کیا جائے۔ کوئٹہ سے وکیلوں کی بڑی تعداد مچھ جیل پہنچ گئی تھی لیکن ہادی شکیل ایڈووکیٹ کو رہا نہیں کیا گیا جبکہ باقی وکیل رہا ہو کر واپس کوئٹہ روانہ ہوگئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد