’عدلیہ کی بحالی کے بناء انتخابات بیکار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تحریکِ انصاف کے قائم مقام چیئرمین اور سپریم کورٹ بار کے سابق صدر حامد خان کا کہنا ہے کہ جب تک ملک میں ایمرجنسی نافذ ہے اور عدلیہ بحال نہیں ہوتی اس وقت تک پاکستان میں شفاف اور منصفانہ انتخابات نہیں ہو سکتے۔ حامد خان نے اتوار کو نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ ملک میں جو نگران سیٹ اپ تشکیل دیا گیا ہے وہ غیر آئینی ہے ۔ ان کے بقول نگران سیٹ اپ کے تمام ارکان کا براہ راست صدر جنرل پرویز مشرف سے تعلق ہے اوراس نگران سیٹ اپ کا مقصد دھاندلی کرنا اور مرضی کے نتائج حاصل کرنا ہے۔ حامد خان تحریک انصاف کے سینئر نائب صدر ہیں عمران خان کے نظربندی کے باعث جماعت کے قائم مقام سربراہ کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ پریس کانفرنس میں حامد خان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی بحالی کے بغیر انتخابات میں حصہ لینا ایک آمر کی سازش کو کامیاب بنانے کے مترادف ہے۔ ان کے بقول تمام سیاسی جماعتوں کے سامنے یہ نکتہ اٹھایا جائے گا کہ عدلیہ اور آئین کی بحالی کے بغیر انتخابات میں حصہ لینا بے کار ہے۔ عمران خان کی رہائی کے لیے عدلیہ سے رجوع کرنے کے معاملہ پر حامد خان نے کہا کہ وکلاء پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے سامنے پیش نہیں ہونگے۔ ان کے بقول ’اس وقت عدلیہ کی طرف رخ کیا جائے گا جب جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تمام عدلیہ بحال ہو اور تین نومبر سے پہلے والی حالت واپس آجائے گی‘۔ حامد خان نے نجی ٹی وی چینلز کی بندش اور ایمرجنسی کے دوران سیاسی کارکنوں، وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان کی گرفتاری کی شدید مذمت کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ وہ دن دور نہیں جب آئین ، عدلیہ اور جمہوریت بحال ہوگی۔ | اسی بارے میں مشرف دھوکا دے رہے ہیں۔ عاصمہ 18 November, 2007 | پاکستان صدر مشرف تصادم کے راستے پر17 November, 2007 | پاکستان ’چور کو گھر سے نکل جانے دیں‘ 17 November, 2007 | پاکستان مشرف کو اب جانا ہوگا17 November, 2007 | پاکستان پھولوں کے ساتھ احتجاج16 November, 2007 | پاکستان پاکستان کے ادارے بکھرنے کا خطرہ15 November, 2007 | پاکستان درخواستیں فرینڈلی فائر:جسٹس کھوکھر15 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||