پھولوں کے ساتھ احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں سو سے زائد مقامی طلبہ اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے جمعہ کی شام جسٹس افتخار محمد چودھری سے اظہارِ یکجہتی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے پر امن مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر پولیس کی ایک بڑی تعداد جلوس کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ مظاہرے میں شامل لوگوں نے چیف جسٹس کو پیش کرنے لے لیے پھولوں کے گلدستے پکڑ رکھے تھے اور ’دل دل پاکستان‘ گاتے ہوئے چیف جسٹس کے گھر کی طرف مارچ کر رہے تھے۔ لیکن پولیس نے تھوڑی دیر کے بعد ہی مظاہرین کو آگے جانے سے منع کر دیا۔ اس موقع پر مظاہرین نے چیف جسٹس اور پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کے حق میں نعرے بازی کی۔
مظاہرین نے پھول اس شرط پر پولیس کے حوالے کر دیے کہ وہ ان کی طرف سے چیف جسٹس کے گھر پہنچا دیں گے۔ مظاہرے میں شامل سابق بیوروکریٹ روائیداد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پاکستان میں پہلی مرتبہ لوگ ایمر جنسی کی کھل کر مخالفت کر رہے ہیں۔ اس لیے اب فتح عوام کی ہو گی اور آخرکار جنرل مشرف کو جانا پڑے گا۔‘ مظاہرے میں شامل ایک طالب علم نے بتایا کہ مظاہرے کا مقصد پاکستان کو صحیح راستے پر ڈالنا ہے اور ایسا کافی عرصے کے بعد ہو رہا ہے کہ طلبہء اس مقصد کے لیے اکھٹے ہو کر مظاہروں میں شامل ہو رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’منظم احتجاجی تحریک کی ضرورت‘13 November, 2007 | پاکستان محمد میاں سومرو، چوبیس رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا16 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی: بینچ میں بیٹھنےسے انکار16 November, 2007 | پاکستان کراچی:وکلاء کی گرفتاریاں جاری13 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||