’چور کو گھر سے نکل جانے دیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تین نومبر دو ہزار سات کو جب چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے پاکستان میں ایمرجنسی کے بعد عبوری آئین کا حکم، پی سی او نافذ کیا اور اعلیٰ عدالت میں جج رہنے کو پی سی او کے تحت حلف سے مشروط کیا تو اس کے ساتھ آئین کو معطل یا منسوخ نہیں کیا بلکہ جس جس حصے کو غیر فعال کیا گیا اس کے لیے ’موقوف‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی۔ اس سلسلے میں جاری ہونے والا فرمان کہتا ہے: حکم نامہ تین نومبر دوہزار سات کی پیروی اور اس ضمن میں حاصل تمام اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف نے تین نومبر دو ہزار سات کے ہنگامی حالت کے فرمان کے تحت حکم نامہ جاری اور نافذ کیا ہے، (جس کے تحت) پاکستان کا نظم و نسق صدر مملکت، جس حد تک بھی ممکن ہوگا، آئین کے مطابق چلائیں گے (اور) صدر مملکت وقتاً فوقتاً حکم کے ذریعے ضروری سمجھی جانے والی ترمیم کر سکیں گے۔ یہ فرمان، الفاظ کی جادوگری سے پیدا کی جانے والی پیچیدگی کا ایسا نمونہ ہے کہ اس پر پہلے مرغی یا پہلے انڈے والی بات سو فیصد راس آتی ہے۔ بار بار پڑھنے کے باوجود یہ نہیں جانا جا سکتا کہ چیف آف آرمی سٹاف کو ایمرجنسی لگانے کے اختیارات کب اور کیسے حاصل ہوئے ہیں اور انہوں نے ایمرجنسی پہلے لگائی ہے یا پی سی او پہلے جاری کیا ہے۔ البتہ اس حکم نامے نے یہ بات طے کر دی ہے کہ صدر کو اب جو اختیارات حاصل ہیں وہ چیف آف آرمی سٹاف نے انہیں عطا کیے ہیں۔
گویا اس طرح پہلی بار یہ طے کر دیا گیا ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف ملک کے سربراہ: صدر اور بہ عہدہ کمانڈر ان چیف اور وزیراعظم سے بھی زیادہ اختیار رکھتا ہے۔ یہ غالباً ایک ایسی مثال ہے جو اس سے پہلے موجود نہیں تھی اور یہ مثال پیدا کرنے کی ہمت اس لیے کی گئی ہے کے صدر اور چیف آف آرمی سٹاف کا عہدے ایک ہی فرد میں جمع ہیں اور شاید اسی باعث صدر مشرف کو چیف آف آرمی سٹاف کا عہدہ چھوڑنے میں تامل ہے۔ کیونکہ اب جو چیف آف آرمی سٹاف آئے گا وہ اس مثال کے مطابق جب چاہے گا صدر بنے، اسمبلیوں کو توڑے اور حکومتوں کو برطرف کیے بغیر، صدر سے نیچے تک پوری انتظامیہ کو اس بات کا پابند کر سکے گا کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔ اب اسے شاید اس بات کا ڈر بھی نہیں ہو گا کہ آنے والی اسمبلی موجودہ چیف آف آرمی اسٹاف اور صدر کے دور کے اقدامات کی توثیق کرتی ہے یا نہیں۔ یعنی اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب تک ہم نے صدارتی، صدارتی پارلیمانی اور پارلیمانی نظاموں کی جو اصطلاحیں سنی تھیں ان میں سے ہر ایک کے ساتھ اب کسی بھی وقت چیف آف آرمی سٹاف کے لفظ کا اضافہ ہونے کا امکان موجود رہے گا۔ اسی لیے ایمرجنسی کے ساتھ ساتھ مرکزی اور صوبائی حکومتوں اور اسمبلیوں کو بھی برقرار رکھنا مکن ہو سکا اور قومی اسمبلی کی تحلیل سے قبل جب ان تمام لوگوں نے حیرانی کا اظہار کیا جنہوں نے ’فرمان‘ کا مطالعہ نہیں کیا تھا اور ذہن میں اس سے قبل جاری کیے جانے والے فرمان اور پی سی او رکھے تھے۔ ایسے ہی لوگوں نے معصومیت میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ ایمرجنسی تو آئین کے تحت لگتی ہے اور اب ایسے ہی لوگ یہ مطالبہ بھی کر رہے ہیں کہ تین نومبر سے پہلے والی عدلیہ کو بحال کیا جائے اور آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرا کے جمہوریت بحال کی جائے۔ لیکن یہ لوگ اس بات کی وضاحت نہیں کرتے کہ یہ مطالبات کس سے کیے جا رہے ہیں، مثلاً یہ مطالبات اگر صدر سے کیے جا رہے ہیں تو صدر کی تو آئینی حیثیت تین نومبر کے بعد سے متنازع ہو چکی ہے اور اس کی بظاہر داخلی وجوہ چار ہیں۔ ایک: انہوں نے خود کو اسمبلیوں سے چیف آف آرمی سٹاف ہوتے ہوئے منتخب کرایا ہے۔ دو: انہیں منتخب کرنے کے لیے منتخب نمائندوں کی اکثریت کے فیصلے کو عدلیہ نے قبول نہیں کیا۔ تین: اب تک نتیجے کا باقاعدہ اعلان نہیں ہوا اور چار: اس کے نتیجے میں صدر اب تک حلف بھی نہیں اٹھا سکے۔
اب اگر ایسا ہوا ہے کہ صدر کو اس وقت جو اختیارات حاصل ہیں وہ اسے چیف آف آرمی سٹاف نے دیے ہیں تو سب سے پہلے ایمرجنسی اور پی سی او کے فرمان کو تسلیم کرنا پڑتا ہے اور پی سی او تسلیم کر لیا جائے تو تین نومبر سے پہلے کی صورت پر واپس جانے کا مطالبہ ہی بے بنیاد ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اب تک کم و بیش سپریم کورٹ آف پاکستان اور ہائی کورٹس کے پینتالیس فی صد جج پی سی او کے تحت حلف لے چکے ہیں اور اگر کسی جواز کے بغیر مرکزی و صوبائی اسمبلیوں اور حکومتوں کو موجودہ حال میں رکھ کر تین نومبر سے پہلے کی پوزیشن بحال کی جائے تو پھر ان ججوں کی پوزیشن کیا ہو گی؟ کیا انہیں فارغ کر دیا جائے گا؟ اگر فارغ کیا جائے گا تو کس جواز کے تحت اور اگر فارغ نہیں کیا جائے گا تو کیا ان سے نئے حلف لیے جائیں گے اور اگر حلف لیے جائیں گے تو کس قانون اور آئین کے تحت کیونکہ انیس سو تہتر کا آئین میں تو ایسی کسی صورتِ حال کے بارے میں کچھ نہیں کہتا کیونکہ اس سے پہلے کبھی اس طرح کی صورتِ حال پیدا ہی نہیں ہوئی اور اگر ان کی تنزلیاں کی جائیں گی اور مراعات کی واپسی ہوگی اور اگر نہیں تو واپس آنے والے ججوں کے ساتھ ان سے کیسے ورکنگ ریلیشنز کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اس صورت میں مجھے تو اپنے بزرگوں کی ایک ہی بات یاد آ تی ہے کہ اگر چور گھر میں گھس آئے تو پہلا کام یہ کیا جانا چاہیے کہ اسے یہ احساس نہ دلایا جائے کہ آپ نے اسے دیکھ لیا ہے اور وہ جو بھی لے جانا چاہتا ہے اسے لے جانے دیا جائے اور اگر کسی شور شرابے سے آنکھ کھل ہی جائے، جیسے اس وقت پاکستان میں وکلاء اور سول سوسائٹی اور الیکڑانک کی آنکھ کچھ عرصے سے کھلی ہوئی ہے تو چور پر سارے راستے بند نہ کریں اور اسے گھر سے نکلنے کا موقع دیں۔ بزرگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ شور بھی نہ مچائیں کیوں کہ اس کے نتیجے میں ہو سکتا ہے کہ باہر لوگ جـمع ہو جائیں اور چور ان کی وجہ سے گھر چھوڑنے پر تیار نہ ہو یا کسی گھر والے یا والی کو یرغمال ہی نہ بنا لے لیکن یہ تو ان کے لیے ہے جو بزرگوں اور ماضی سے کچھ سیکھنے پر یقین رکھتے ہیں۔ |
اسی بارے میں انتخابات، ریٹرننگ افسروں کی منظوری14 November, 2007 | پاکستان مشرف، بینظیر: راستے جدا جدا؟14 November, 2007 | پاکستان بےنظیر کے مضامین، بیرون ملک مہم15 November, 2007 | پاکستان ’مشرف جلد وردی اتار دیں گے‘ 15 November, 2007 | پاکستان ’گریجویٹ‘اسمبلی کی معیاد ختم15 November, 2007 | پاکستان درخواستیں فرینڈلی فائر:جسٹس کھوکھر15 November, 2007 | پاکستان عمران کی گرفتاری کے خلاف احتجاج16 November, 2007 | پاکستان سندھ اسمبلی کے اچھے برے پانچ سال16 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||