چارٹر آف ڈیمانڈ کے نکات پر اتفاق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حزب اختلاف کے دو بڑے اتحادوں نے پندرہ نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ میں سے تیرہ پر اتفاق کرلیا ہے لیکن اس میں شامل ججوں کی بحالی سمیت دو نکات پر فریقین میں اختلاف رائے اب بھی برقرار ہے۔ جمعرات کی رات دیر گئے کئی گھنٹوں کی مشاورت کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے پیپلز پارٹی کے میاں رضا ربانی اور مسلم لیگ نواز کے اسحاق ڈار نے بتایا کہ مطالبات کی تفصیل اور انہیں تسلیم کیے جانے کی ڈیڈ لائن کا اعلان ان کی مرکزی قیادت کرے گی۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ ججوں کی بحالی پر نہیں بلکہ انہیں بحال کرنے کے طریقہ کار پر ان کے درمیان اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شفاف انتخابات کے انعقاد، آئین کی بحالی اور ایمرجنسی کے خاتمے، ناظمین کی معطلی، آزاد الیکشن کمیشن کے قیام، انتخابی قوانین میں ترامیم اور نگران حکومتوں کی تبدیلی سمیت تیرہ نکات پر فریقین میں مکمل اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ رضا ربانی اور اسحاق ڈار نے بتایا کہ اختلافی نکات کا معاملہ بھی بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف طے کریں گے اور اس بارے میں مولانا فضل الرحمٰن کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں نے بتایا کہ وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان کا مقصد آٹھ جنوری کے مجوزہ انتخابات کا التواء نہیں ہے۔ ’ہم واضح طور پر کہتے ہیں کہ انتخابات میں تاخیر ہمیں ہر گز قبول نہیں ہوگی۔‘ ایک سوال پر رضا ربانی نے کہا کہ جن ججوں نے عبوری آئینی حکم کے تحت حلف نہیں اٹھایا وہ ان کا احترام کرتے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق ججوں کی بحالی کے طریقہ کار پر ان کی جماعت کی رائے مختلف ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ محض ججوں کی بحالی ہی نہیں بلکہ اصل مسئلہ عدلیہ کے بطور ادارے کے آزادی کا ہے اور وہ اس مسئلے کو کسی فرد کا مسئلہ نہیں سمجھتے۔ حزب مخالف کے دو بڑے اتحادوں ’اے پی ڈی ایم‘ اور ’اے آر ڈی‘ کی آٹھ رکنی کمیٹی نے اپنے مطالبات کو حتمی شکل تین روز کی مسلسل مشاورت کے بعد جمعرات کو دی۔ فریقین کا کہنا ہے کہ جمعہ کی صبح کو وہ اپنی سفارشات اپنے اپنے مرکزی رہنماؤں کے حوالے کر دیں گے۔ اس بارے میں مسلم لیگ نواز کے سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ محض مطالبات کو حتمی شکل دینا ہی نہیں بلکہ اپوزیشن کی دی گئی ڈیڈ لائن تک مطالبات تسلیم نہ کرنے کی صورت میں تحریک چلانے اور اس کا طریقہ کار طے کرنا اور تحریک کے نتیجے میں تبدیلی یا مطالبات تسلیم کیے جانے کی صورت میں پیدا ہونے والی صورتحال میں کیا کرنا ہے ، اس بارے میں بھی سفارشات مرتب کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق اگر حکومت ان کے ’چارٹر آف ڈیمانڈ‘ تسلیم نہ کرے تو پھر آٹھ جنوری کے مجوزہ عام انتخابات کا بائیکاٹ کر کے آئین اور جمہوریت کی بحالی کے لیے بھرپور تحریک چلائی جائے گی۔ کمیٹی میں اے آر ڈی کی جانب سے رضا ربانی، صفدر عباسی، ملک نوید اور عبدالقدیر جبکہ اے پی ڈی ایم کی نمائندگی اسحاق ڈار، احسن اقبال، عبدالرحیم مندوخیل اور پروفیسر خورشید کر رہے ہیں۔ یہ کمیٹی پیر کو سابق وزیراعظم بینطیر بھٹو سے ان کے ہم منصب میاں نواز شریف کی ملاقات کے بعد تشکیل دی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ متحدہ حزب مخالف کی جانب سے حکومت کو متفقہ مطالبات پیش کیے جائیں۔ دریں اثنا پیپلز پارٹی کی چئر پرسن بینظیر بھٹو نے ڈان ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ محض تین نومبر کو آئین معطل کیے جانے کے بعد برطرف کردہ ججوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ جنرل پرویز مشرف نے پہلے بھی چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی سمیت کئی ججوں کو برطرف کیا تھا اور انہوں نے بھی پی سی او کے تحت حلف نہیں لیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پرویز مشرف سے پہلے میاں نواز شریف نے بھی ایک چیف جسٹس کو برطرف کیا تھا اور ان سے بھی پہلے ضیاء الحق نے کئی ججوں کو برطرف کیا تھا۔ سابق وزیر اعظم نے کہا وہ ایسی پالیسی چاہتی ہیں جس میں ججوں کو کوئی برطرف نہ کرسکے۔ |
اسی بارے میں پی سی او ججوں کا بائیکاٹ05 December, 2007 | پاکستان ججز کی بحالی، کل جماعتی کانفرنس06 December, 2007 | پاکستان صوبوں میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ06 December, 2007 | پاکستان ’منصفانہ انتخاب کے لیے آزاد عدلیہ لازم‘06 December, 2007 | پاکستان ’جسٹس افتخار سے نہیں مل سکتے‘06 December, 2007 | پاکستان ’حکومت نے بہت بڑی کوتاہی کی‘05 December, 2007 | پاکستان امیدواروں کی ڈگریوں پر اعتراض05 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||