صوبوں میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان بار کاؤنسل کی اپیل پر جمعرات کو ملک بھر میں وکلاء تنظیموں نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ہے اور احتجاجی جلوس نکالے ہیں۔ وکلاء رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اے پی ڈی ایم اور اے آر ڈی کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں پہلا مطالبہ عدالت کی آزادی اور ججوں کی بحالی ہونا چاہیے۔ کراچی میں سندھ ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا اور وکلاء نے جنرل باڈی کے اجلاس منعقد کیے جن سے بار کے صدر رشید رضوی، اختر حسین اور دیگر شخصیات نے خطاب کیا۔ وکلاء رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تیس دسمبر کو ہائی کورٹ سے پریس کلب تک احتجاج کیا جائیگا۔ وکلاء رہنماؤں نے یہ بھی بتایا کہ انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر ایک سیمینار منعقد کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے رہنما اور سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان وکلاء سے یکہجتی کے اظہار کے لیے بار روم پہنچے اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے وکلاء تحریک سے علیحدگی پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلاء نے جس طرح سے تحریک چلائی ہے اور لاٹھیاں کھائی ہیں وہ تاریخ کا حصہ بنے گا۔ ’اس سے پہلے ماضی میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا ہے کہ وکلاء برادری اس طرح کھڑی ہوگئی ہو۔‘ انہوں نے کہا کہ ہر وہ سیاسی جماعت ظالم ہوگی جو وکلاء کو اس طرح سے بیچ میں چھوڑ دے گی۔
راولپنڈی میں ڈسٹرکٹ کورٹ سے وکلاء نے احتجاجی جلوس نکال کر ضلع ناظم کے دفتر کے باہر احتجاج کیا اور بعد میں نعرے لگاتے ہوئے ڈی آئی جی آفس پہنچے جہاں وکلاء اور پولیس اہلکاروں کے درمیان معمولی ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ کوئٹہ سے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر شہروں میں وکلاء نے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور سنیچر کو کوئٹہ میں دھرنا بھی دیا جائےگا۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے گرفتار پانچ وکلاء رہنماؤں میں سے اعتزاز احسن کے علاوہ دیگر کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ ان میں علی احمد کرد، طارق محمود، باز محمد کاکڑ، حاجی شکیل احمد شامل ہیں جو تاحال قید ہیں۔ لاہور سے صحافی امداد علی سومرو کے مطابق وکلاء نے عدالتی بائیکاٹ کے بعد احتجاجی جلوس نکالے۔ ڈسٹرکٹ بار کے صدر سعد شاہ کی قیادت میں جلوس نکالا گیا اور پی ایم ڈی چوک پر دھرنا دیا گیا۔ اس موقع پر اپر مال اور لوئر مال روڈ کی طرف جانے والی سڑک پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر کے اسے بند کر دیا گیا۔ تاہم وکلاء نے رکاوٹیں ہٹاکر کچہری چوک تک مارچ کیا اور وہاں بھی دھرنا دیا۔ وکلاء رہنماؤں نے سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ججوں کی بحالی کے لیے تحریک چلائیں۔ پشاور سے نامہ گار انتخاب امیر کے مطابق وکلاء نے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کے بعد جنرل باڈی کا اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں سے مطالبہ کیا گیا اے پی ڈی ایم اور اے آر ڈی کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں پہلا مطالبہ عدلیہ کی آزادی اور ججوں کی بحالی ہونا چاہیے بصورت دیگر وکلاء اس کو قبول نہیں کریں گے۔ وکلاء رہنماؤں کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور بینظیر بھٹو کو یاد رکھنا چاہیے کہ عدلیہ کی آزادی کی وجہ سے ہی وہ آج پاکستان میں موجود ہیں۔ |
اسی بارے میں سرحد: صحافیوں کا احتجاج جاری21 November, 2007 | پاکستان کوئٹہ فائرنگ، تین اہلکار ہلاک23 November, 2007 | پاکستان کراچی: صحافیوں کا احتجاج اور دھرنا 24 November, 2007 | پاکستان حلف پر احتجاج، پولیس لاٹھی چارج29 November, 2007 | پاکستان اسلام آباد مظاہرہ: طلبا پر لاٹھی چارج05 December, 2007 | پاکستان پی سی او ججوں کا بائیکاٹ، بار کو تالا05 December, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||