سرحد: صحافیوں کا احتجاج جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں صحافیوں پر تشدد اور میڈیا پر عائد پابندیوں کے خلاف پشاور اور صوبے کے دیگر اضلاع میں بدھ کو احتجاجی جلسےاور جلوس منعقد کیے ہیں۔ پشاور یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام ریلی میں شریک صحافی پولیس کے روکنے کے باوجود تمام رکاوٹوں کو توڑتے ہوئےگورنر ہاؤس کے سامنے پہنچ گئے جہاں پر انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے خلاف اور میڈیا کی آزادی کے حق میں نعرے بازی کی۔ ریلی میں سول سوسائٹی کی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ ریلی میں شرکاء نے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر’میڈیا سے جو ٹکرائے گا پاش پاش ہوجائے گا، ایمر جنسی قوم کے منہ پر طمانچہ اور جمہوریت یا آمریت فیصلہ آپ کا‘، جیسے نعرے درج تھے۔
مظاہرین’ گو مشرف گو، یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے اور ہم نہیں مانتے ظلم کے یہ ضابطے‘ کے نعرے لگاتے ہوئے جب گورنر ہاؤس کی جانب جانے والے راستے میں کھڑی رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے آگے بڑھے تو پولیس نے انہیں آگے جانے سے روکنے کی کوشش کی تاہم صحافی زبردستی گورنر ہاؤس کے داخلی گیٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پشاور یونین آف جرنلسٹس کے صدر جان افضل نے کراچی میں صحافیوں پر ہونے والے مبینہ تشدد کی مذمت کی ۔انہوں نے جنرل مشرف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’ جنرل صاحب، آپکو سچ سننا، برداشت اور گوارا کرنا پڑے گا، ہم آپکی طرف سے ڈھائی جانے والی صعوبتوں سے نہیں ڈرتے، صحافیوں نےکل بھی آزادی چھینی تھی اور آج بھی چھین کے رہیں گے۔، انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ کراچی میں صحافیوں پر ہونے والے پولیس کے مبینہ تشدد کے خلاف پشاور کے صحافی روزانہ پریس کلب سے ایک احتجاجی ریلی نکالیں گے۔ صوبہ سرحد کے بعض دیگرعلاقوں میں بھی صحافیوں نے احتجاجی ریلیاں منعقد کی ہیں۔ |
اسی بارے میں خبریں نشر کرنے پر پابندی16 November, 2007 | پاکستان وکلاء نے ’جسٹس سکوائر‘ بنا دیا17 November, 2007 | پاکستان صحافیوں پر تشدد کی عالمی مذمت21 November, 2007 | پاکستان پاکستان کے ادارے بکھرنے کا خطرہ15 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||