صحافیوں پر تشدد کی عالمی مذمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں عالمی صحافتی تنظیموں نے پاکستان میں احتجاج کرنے والے سینکڑوں صحافیوں پر پولیس تشدد اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔ نیویارک میں صحافیوں کی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس یا سی پی جے نے صدر جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں نافذ کی گئی ایمرجنسی کے نتیجے میں میڈیا پر پابندیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے سینکڑوں صحافیوں پر پولیس تشدد پر سخت غصے کا اظہار کیا ہے۔ سی پی جے کے ایگزیکٹیو ڈائیریکٹر جوئیل سائمن نے کہا ہے کہ مشرف حکومت میڈیا پر کنٹرول رکھنے کی اپنی تمام کوششیں ترک کردے کیونکہ پاکستان میں رونما ہونیوالے واقعات پوری میڈیا کوریج کا تقاضا کرتے ہیں۔ سی پی جے کے سربراہ نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں پریس کی آزادی کے متعلق بدترین خدشات درست ثابت ہورہے ہیں۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری جنرل مظہر عباس کومنگل کی شب نیویارک میں سی پی جے کی ایک بڑی تقریب میں پریس آزادی کا عالمی اعزاز دیا گیا۔ اس موقع پر مظہر عباس نے کہا ہے کہ لگتا ہے کہ مشرف حکومت نے میڈیا کیخلاف دہشتگردی کی جنگ شروع کر رکھی ہے۔ امریکہ میں پاکستانی صحافیوں کی نو زائيدہ تنظیم کولیشن آف پاکستانی جرنلسٹس نے بھی کراچي میں صحافیوں پر تشدد اور انکی گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔ مسعود حیدر نے کہا ہے کہ انکی تنظیم پاکستان میں صحافیوں اور پریس کی آزادی پر قدغن اور ریاستی تشدد کے بارے میں امریکی صحافیوں اور واشنگٹن میں اراکین کانگرس و سینٹ کو آگاہ کرنے کی مہم شروع کررہے ہیں۔ کولیشن آف پاکستانی جرنلسٹس نے نجی ٹی وی چینلز جیو اور اے آر وائی پر پاکستانی فوجی حکومت کے کہنے پر متحدہ عرب امارات کیطرف سے پابندی کی مذمت کی اور ان چینلز پر پابندی فوری طور پر اٹھانے کا مطالبہ کیا۔ | اسی بارے میں ’ہم پابندی قبول نہیں کریں گے‘07 November, 2007 | پاکستان برطانوی صحافی، ملک بدری کا حکم10 November, 2007 | پاکستان ٹی وی چینلز پر پابندی، مظاہرے17 November, 2007 | پاکستان ’صحافی ناخوش میڈیا مالکان راضی‘13 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||