برطانوی صحافی، ملک بدری کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکام نے کہا ہے کہ برطانوی روزنامہ ’ڈیلی ٹیلیگراف‘ کے تین رپورٹروں کو بہتّر گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ان رپورٹروں نے پاکستان کی قیادت کے بارے میں نازیبا زبان استعمال کی ہے۔ ان تین صحافیوں میں اسمبرڈ ولکنسن، کولن فری مین اور ڈینئل میسل رائے شامل ہیں۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر نے بتایا کہ وفاقی وزیرِ مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں کہاہے کہ برطانوی اخبار ’دی ڈیلی ٹیلیگراف‘ میں نو نومبر کو شائع ہونے والے ایک مضمون میں توہین آمیز الفاظ استعمال کیے گئے تھے جو کہ صحافت کے آداب کے منافی ہیں۔ اس لیے اس اخبار کے تین صحافی جو پاکستان کی موجودہ صورت حال کی کوریج کے لیے یہاں موجود ہیں۔ انہیں بہتّر گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نامہ نگار نے بتایا کہ مذکورہ اخبار کے ایک اداریے میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں امریکہ اور برطانیہ کے بڑے مہرے جنرل پرویز مشرف کی حیثیت اب ایک استعمال شدہ کارتوس کی رہ گئی ہے۔ اس اداریے میں صدر مشرف پر کافی تنقید کی گئی تھی اور لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کے پریس منسٹر سلمان گردیزی نے اس اخبار کے ایڈیٹر کو ایک خط بھی لکھا تھا کہ اس اداریے میں ناشائستہ الفاظ اور جارحانہ زبان استعمال کی گئی ہے جو صحافت کی روایت کے منافی ہے لہذا آپ معافی مانگیں۔ برطانوی ہائی کمیشن کی ترجمان نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’ہم گزشتہ ایک ہفتے سے پاکستان میں میڈیا سے پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ آزاد اور طاقتور میڈیا ہی پاکستان کے لیے بہترین ہے۔ | اسی بارے میں ’ہم پابندی قبول نہیں کریں گے‘07 November, 2007 | پاکستان ملک بھرمیں صحافیوں کایوم سیاہ09 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||