ملک بھرمیں صحافیوں کایوم سیاہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر پابندیوں اور نجی ٹی وی چینلوں کی نشریات بند کیے جانے کے خلاف صحافیوں نے جمعہ کو یوم سیاہ منایا ہے۔ صحافیوں نے دو روز تک سرکاری تقریبات کے بائیکاٹ کا بھی اعلان کیا ہے۔ کراچی میں کراچی یونین آف جرنلسٹ کے زیر اہتمام صحافیوں کا احتجاجی جلسہ ہوا جسے کے یو جے کے صدر شمیم الرحمان، سیکریٹری جنرل جاوید چودھری، ایسو سی ایشن آف ٹی وی جرنلسٹ کے رہنما جاوید صبا نے خطاب لاہور سے علی سلمان کے مطابق پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی صحافیوں نے احتجاجی مظاہرے کیے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ۔ لاہور کے صحافیوں نے پریس کلب کے گرد چکر لگایا اور صدر جنرل پرویز مشرف اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی انہوں نے ایک بڑا بینراٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا کہ صحافت کی آزادی تک جنگ رہے گی۔اس سے پہلے پنجاب یونین آف جرنلسٹس اور پریس کلب کی جنرل باڈی کا اجلاس ہوا جس میں ٹی وی کے نیوز چینلز بند کرنے کی مذمت کی گئی اور پمرا آرڈیننس کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا۔ پی یو جے کے صدر عارف حمید بھٹی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافت کی آزادی کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ فیصل آباد میں صحافیوں اور نیوز فوٹوگرافروں نے پریس کلب پر پولیس کے قبضے کے خلاف نعرے بازی کی۔ ملتان میں سیاہ پٹیاں باندھے ہوئے صحافیوں نے مذمتی اجلاس کیا۔ تمام مظاہروں میں تمام صحافیوں کا مطالبہ تھا کہ میڈیا پر پابندی ختم کی جائے اور سب کا مشترکہ عزم تھا کہ آزادی صحافت کے لیے وہ ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔ اطلاعات کے وزیر مملکت طارق عظیم نے کہا ہے کہ حکومت نے ٹی وی چینلوں کی انتظامیہ کو مذاکرات کے لیے بلایا ہے جو ٹی وی چینل ضابطہ اخلاق پر پابندی کی یقین دہانی کرائے گا اس کے چینل بحال ہوجائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ سی این بی سی اور بزنس پلس نے ضابطہ اخلاق پر دستخط کردئیے تھے جو بحال کردئیے گئے ہیں۔ کراچی میں صحافیوں کے اجلاس میں ملک سے ایمرجنسی کے خاتمے، سیاسی اور سول سوسائٹی کے گرفتار کارکنوں کی رہائی اور عدلیہ کی بحالی کے مطالبات کیے گئے۔ کراچی یونین آف جرنلسٹ کے صدر شمیم الرحمان کا کہنا تھا کہ وہ تمام ٹی وی چینلوں اور ریڈیو سمیت اخبارات کے مالکان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھی سرکاری تقریبات کے بائیکاٹ میں صحافیوں کا ساتھ دیں اگر ایسا نہ کیا گیا تو مالکان کی بھی بات نہیں مانی جائیگی اور صحافیوں کو تنہا کردیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مالکان یہ چاہتے ہیں کہ ان کے چینل دیکھے جائیں اور ان کی ساکھ برقرار رہے تو اس فیصلے پر عمل درآمد کریں۔ شمیم الرحمان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے جب پابندیاں عائد ہوئی تھیں تو ایک ادارے کے مالک نے کہا تھا کہ صرف ٹیلی نور کا اشتھار بند ہوا تھا تو ساٹھ کروڑ کا نقصان ہوا تھا۔ انہوں نےکہا کہ اگر صحافت کو کروڑوں میں تولا جائیگا تو پھر کبھی آزادی صحافت نہیں مل سکے گی۔ کوئٹہ پاکستان یونین آف جرنلسٹ کی اپیل پر آج بلوچستان میں بھی صحافیوں نے یوم سیاح منایا۔کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں مظاہرے ہوئے۔ صحافیوں نے سیاہ پٹیاں باندھی ہوئی تھیں اورمیڈیا کی آزادی کیلیے پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے۔ تاہم پولیس کے آمد کے بعد مظاہرے میں شریک صحافی منتشرہوگئے۔ اس سے قبل کوئٹہ پریس کلب میں صحافیوں اوراخبارات کے مالکان کا اجلاس اس وقت بدمزگی کا شکار ہواجب روزنامہ انتخاب کے ایڈیٹرانور ساجدی نے کہا کہ صحافیوں کیلیے اب ایک بارپھر قربانی دینے کا وقت آگیا ہے کیونکہ حکومت میڈیاپرپابندی کے نتیجے میں اخبارات کے اشتہارات بند کرسکتی ہے جس کی وجہ سے کارکنوں کی تنخواہیں بھی بند ہوسکتی ہے۔ انورساجدی کے اس بات پراجلاس میں موجود ورکِنگ جرنلسٹوں نے شدید احتجاج کیا اورکہا کہ مالکان اخبارات ہرمسئلے میں تنحواہوں کواشتہارات سے منسلک کرنے کی کوشش کرتے ہیں بعد میں مالکان اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔ صحافیوں نے کہا کہ گرفتاری سب سے پہلے مالکان کودینی ہوگی اور ساتھ ہی زیادہ ترشرکاء نے اجلاس میں پی ایف یوجی اور بی یوجے کے غیرحاضر عہدیداروں پربھی شد ید تنقید کی جوبقول ان کے گرفتاریوں سے بچنے کی وجہ سے آج کے اجلاس میں شرکت نہیں کررہے ہیں۔ بعدمیں بی یوجے کا ایک اجلاس پیر کو طلب کرلیا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں ’میں آج بھی جج ہوں۔۔۔۔‘08 November, 2007 | پاکستان لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سینکڑوں پی پی پی کارکن گرفتار08 November, 2007 | پاکستان پی پی پی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے08 November, 2007 | پاکستان پی سی او اور مشرف کے مقاصد08 November, 2007 | پاکستان پولیس اور جماعت اراکین کی جھڑپ08 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||