عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | سرحد بار ایسوسی ایشن نے فیصلہ کیا کہ کوئی بھی وکیل ہائی کورٹ کے جج بننے کی حکومتی پیشکش قول نہیں کرے گا |
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں جماعت اسلامی کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں جماعت اسلامی کے کم سے کم آٹھ کارکن زخمی ہو گئے ہیں جبکہ چھ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ واقعہ جمعرات کی شام اس وقت پیش آیا جب جماعت اسلامی کے تقریباً پچاس کارکنوں نے ایمر جنسی کے خلاف پہلے سے اعلان شدہ پروگرام پر عملدرآمد کرتے ہوئے قصہ خوانی کی بجائے خیبر بازار میں ایک احتجاجی مظاہرہ کرنے کی کوشش کی۔مظاہرین کی اچانک منظر عام پر آنے کے کچھ دیر بعد پولیس بھی وہاں پہنچ گئی۔ مظاہرین نے ایمرجنسی کے خلاف اور ’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگائے تاہم پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے جب لاٹھی چارج شروع کیا تو اس دوران پولیس اور جماعت اسلامی کے اراکین ایک دوسرے کے ساتھ گھتم گھتا ہوگئے۔اس موقع پر مظاہرین نے پھتراؤ کیاجسکے نتیجے میں آس پاس کھڑی چند گاڑیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ حالات کو قابو سے باہر ہوتے دیکھ کر پولیس نے آنسو گیس کے گولے پھینکے جس کے نتیجے میں کم سے کم آٹھ مظاہرین زخمی ہوگئے جبکہ چھ کارکنوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ تاہم پندرہ منٹ کی کشیدگی کے بعد مظاہرین خود بخود منتشر ہوگئے ۔ دوسری طرف جمعرات کو سرحد بار ایسوسی ایشن نے ایک ہنگامی اجلاس میں فیصلہ کیا کہ کوئی بھی وکیل ہائی کورٹ کے جج بننے کی حکومتی پیشکش قول نہیں کرے گا۔ ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین فضل تواب نے بی بی سی کو بتایا کہ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ پاکستان بار کونسل کے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے کوئی بھی وکیل ضمانت کی درخواست جمع نہیں کرے گا اور نہ ہی رضا کارانہ طور پر گرفتاری پیش کی جائے گی۔ ان کے بقول صوبہ بھر میں جمعرات کو بھی وکلاء کی گرفتاریوں اور انکے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ان کے مطابق پولیس نے ڈیرہ اسماعیل بار روم پر چھاپہ مار کر تقریباً گیارہ وکلاء کو گرفتار کر لیا ہے۔فضل تواب کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران صوبہ بھر سے دو سو وکلاء کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ |