BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 December, 2007, 14:01 GMT 19:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی سی او ججوں کا بائیکاٹ

وکیل کو گرفتار کیا جا رہا ہے
تحریک جاری رہے گی اور با ئیکاٹ بھی جاری رہے گا: رشید رضوی
پاکستان بار کونسل نے اعلان کیا ہے کہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کا مکمل بائیکاٹ جاری رہے گا جب کہ ماتحت عدلیہ کا ہر جمعرات کو بائیکاٹ کیا جائے گا۔

ادھر نامہ نگار عبادالحق نے لاہور سے خبر دی ہے کہ سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے عہدیداروں کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں اجلاس کرنے سے روک دیا گیا ہے اور بار کےاجلاس کے موقع پر بار ایسوسی ایشن کو تالا لگادیا گیا۔

پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کا مکمل بائیکاٹ کے بارے میں پاکستان بار کونسل کے ممبر رشید رضوی نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ بدھ کو ہونے والی وکلاء کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور پاکستان بار کونسل کی لاہور میں میٹنگ میں کیا گیا ہے۔

رشید رضوی نے کہا کہ ان میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ اور چاروں ہائی کورٹوں کا مکمل بائیکاٹ جاری رہے گا جبکہ ماتحت عدالتوں میں روزانہ ایک گھنٹے علامتی ہڑتال کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہر جمعرات کو ڈسٹرکٹ اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز جلوس نکالیں گی۔

رشید رضوی نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ وکلاء کی تحریک کمزور پڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک کمزور نہیں پڑ رہی بلکہ عنقریب یہ تحریک اور زور پکڑے گی۔ رشید رضوی نے مزید کہا کہ ہمارا خوف ختم ہو گیا ہے اور ہم زیادہ جوش سے تحریک چلائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جس طریقے سے سکیورٹی اہلکاروں نے ظالمانہ طاقت کا مظاہرہ کیا ہے اور بڑے پیمانے پر وکلاء کو گرفتار کیا گیا ہے اس کی مثال پچھلے ساٹھ سالوں میں کہیں نہیں ملتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ پانچ دسمبر کو صرف لاہور ہے سے اڑھائی ہزار وکلاء کو گرفتار کیا گیا۔

رشید رضوی نے کہا کہ تمام صوبوں میں مکمل بائیکاٹ ہے سوائے لاہور اور کراچی کے جہاں صرف سرکاری وکلاء عدالتوں میں حاضر ہوتے ہیں۔

سبکدوش کئے گئے ججوں پر انہوں نے کہا کہ ان ججوں کی حمایت ہمارے لئے نہایت حوصلہ کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ دیکھیں کہ اتنے دنوں بعد ان کی ریٹائرمنٹ کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا یعنی کہ کل تک انتظار کیا جا رہا تھا کہ شائد عبوری آئین کے تحت حلف اٹھا لیں۔

رشید رضوی نے کہا کہ وکلاء کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور پاکستان بار کونسل دوبارہ سترہ دسمبر کو ملیں گے اور لائحہ عمل تیار کریں گے کہ آنے والی چھٹیوں میں وکلاء تحریک کو نقصان نہ پہنچے۔

یاد رہے کہ عید کی چھٹیوں کے ساتھ کورٹ کی سردی کی چھٹیاں بھی آرہی ہیں۔

لاہور میں سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے سیکرٹری امین جاوید کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا اجلاس بدھ کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کی عمارت میں واقع بار روم میں ہونا تھا۔

بار کے سیکرٹری کے بقول بار کے عہدیدار جب اجلاس کے لیے بار روم پہنچے تو ان کو وہاں اجلاس کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور بار روم کو تالے لگا کر بند کردیا گیا تھا۔

ان کا کہنا کہ سپریم کورٹ کی انتظامیہ کی جانب سے بار کے عہدیداروں کو اجلاس کی اجازت نہ ملنے پر تمام عہدیداروں نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ اجلاس سپریم کورٹ بار کے نظربند صدر بیرسٹر اعتزاز احسن کی رہائش گاہ کے باہر کیا جائے گا۔

جاوید امین سمیت دیگر عہدیداروں نے اعتزاز احسن کی رہائش گاہ ( جسے اعتزاز احسن کی نظربندی کے باعث سب جیل قرار دیا گیا ہے) کے باہر ایک اجلاس کیا جس میں ملکی صورت حال کے حوالے سے جائزہ لیا گیا اور مختلف فیصلے کئے گئے ہیں جن کا اعلان جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
فوج قومی نہیں قابض ہے: وکلاء
22 November, 2007 | پاکستان
ججوں کوگھر خالی کرنے کا حکم
25 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد