حلف نہ لینے والے جج ریٹائر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزارت قانون نے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ہائی کورٹ کے چوبیس ججوں کی ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نگران وزیر قانون سید افضل حیدر نے ہائی کورٹ کے ججوں کو ریٹائرڈ کرنے کے بارے میں نوٹیفکیشن جاری کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔ جن جج صاحبان کو ریٹائر کیا گیا ہے ان میں لاہور ہائی کورٹ کے دس، سندھ ہائی کورٹ کے بارہ اور پشاور ہائی کورٹ کے دو جج شامل ہیں۔
ہائی کورٹ کے قبل از وقت ریٹائر کیے جانے والے لاہور ہائی کورٹ کے ججوں میں تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ اور پی سی او کے اجرا سے قبل لاہور ہائی کورٹ میں اکتیس جج کام کررہے تھے تاہم لاہور ہائی کورٹ کے اکیس ججوں نے مرحلہ وار پی سی او کے تحت حلف اٹھایا جس کے بعد پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کی تعداد دس رہ گئی ہے۔ نگران وزیر قانون نے کہا کہ ان ججوں نے اپنی مرضی سے نئے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا اس لیے اب وہ جج نہیں رہے اور ان کی ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کی انتظامیہ نے پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے سپریم کورٹ کے ججوں کے گھر سپریم کورٹ کے نئے ججوں کو الاٹ کردئیے ہیں۔ پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے سردار رضا خان کا گھر سپریم کورٹ کے نئے جج موسی کے لغاری کو الاٹ کردیا گیا ہے جبکہ جسٹس میاں شاکراللہ جان کا گھر جسٹس اعجاز الحسن کو الاٹ کردیا گیا ہے۔
پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے ایک جج کے قریبی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت ججز کالونی میں پانچ گھر خالی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سپریم کورٹ کی انتظامیہ نے جان بوجھ کر وہ گھر الاٹ کیے ہیں جن میں وہ جج صاحبان رہائش پذیر ہیں جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اُٹھایا۔ ذرائع نے بتایا کہ برطرف کیے جانے والے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا گھر نئے پی سی او کے تحت حلف اٹھا کر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو الاٹ کیا گیا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری، جسٹس شاکراللہ جان اور جسٹس ناصرالملک کے پاس ان کے آبائی علاقوں میں بھی ان کے گھر نہیں ہیں۔ حکومت نے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کو صرف تین دن کی تنخواہ بھیجی ہے۔ تین نومبر کی رات کو صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا تھا جس کے بعد یہ جج اپنے عہدوں پر فائز نہیں رہے۔ ان ججوں میں شامل ایک جج کے فیملی ذرائع نے بتایا کہ اے جی پی آر کی طرف سے انہیں اس تنخواہ کے بارے میں کوئی سلپ نہیں ملی اور نہ ہی حکومت نے کوئی پنشن کے کاغذات بھیجے ہیں جس کی وجہ سے ان ججوں کی فیملی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ |
اسی بارے میں انکاری ججوں کے شام و سحر12 November, 2007 | پاکستان اور اب گاڑیاں، ڈرائیور بھی واپس 28 November, 2007 | پاکستان ’آپ جیسے بزرگوں پر فخر ہے‘30 November, 2007 | پاکستان عدلیہ کی بحالی کے لیے تحریک29 November, 2007 | پاکستان مشرف کی حلف برداری، یومِ احتجاج28 November, 2007 | پاکستان جیل میں گزرے ریٹائرڈ جج کے دن28 November, 2007 | پاکستان منیر اے ملک کو رہا کر دیا گیا25 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی: بینچ میں بیٹھنےسے انکار16 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||