شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | پی سی اور کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کے گھروں کے باہر اب تک سکیورٹی اہلکار موجود ہیں |
سپریم کورٹ کی انتظامیہ نے پی سی او کے تحت حلف نہ لینے والے سپریم کورٹ کے ججوں سے گاڑیاں اور ڈرائیور بھی واپس لے لیے ہیں۔ سپریم کورٹ ان ججوں سے ذاتی ملازمین اور دیگر سہولتیں پہلے ہی واپس لے چکی ہے۔ اسی ہفتے نگران کابینہ کے اہم رکن اور وفاقی وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ حامد نواز نے اعلان کیا تھا کہ حکومت پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے ججوں سے تیس نومبر تک سرکاری رہائش گاہیں بھی خالی کرالے گی۔ تاہم بعدازاں سپریم کورٹ کے سینئر جج رانا بھگوان داس نے کہا تھا کہ حکومت کوججوں سے مکانات خالی کروانے کا کوئی اختیار نہیں۔ اس پر حکومت نے اپنے موقف کی تصیح کی تھی کہ ججوں سے مکانات خالی کروانے کی ذمہ داری سپریم کورٹ کی ہے۔ پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے ججوں کی فیملی کے ایک قریبی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ سپریم کورٹ کی انتظامیہ نے ان ججوں سےگاڑیاں اور ڈرائیور واپس لینے کے علاوہ گھریلو ملازمین کو بھی وہاں سے ہٹا لیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والوں ججوں میں سے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا چھوٹا بیٹا بیمار ہے جبکہ جسٹس ناصرالملک کی والدہ شدید علیل ہیں اور وہ بغیر سہارے کے چل پھر نہیں سکتی۔ ان ججوں سے گاڑیاں اور گھریلو ملازمین واپس لینے کے بعد ججوں کی فیملی کے افراد کو جو ان کے ساتھ ججز کالونی میں رہائش پذیر ہیں شدید مشلات کا سامنا ہے۔ ان افراد کو اپنے بچوں کو سکول چھوڑنے کے لیے بچوں کے ہمراہ گھر سے ایک کلو میٹر پیدل سفر کرکے میریٹ ہوٹل کے پاس سے ٹیکسی لیکر ان کو سکول چھوڑنا پڑتا ہے۔ ججز کالونی میں پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے ججوں کے گھروں کے باہر خفیہ اور سکیورٹی اداروں کے درجنوں اہلکار ہر وقت موجود رہتے ہیں اور ان ججوں کے خاندان کے افراد کو بھی گھروں میں آنے جانے کے لیے سکیورٹی چیکنگ سے گزرنا پڑتا ہے۔ |