منیر اے ملک کو رہا کر دیا گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وکلاء کی احتجاجی تحریک کے سرکردہ رہنما منیر اے ملک کو حکومت نے اتوار کی صبح رہا کر دیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں جمعہ کی شام سے زیر علاج سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سابق صدر منیر اے ملک نے رہائی کے بعد بی بی سی کو انٹرویو میں بتایا کہ نو مارچ کے مقابلے میں تین نومبر کے بعد صورتحال مختلف ہے اور انہیں اپنی احتجاجی تحریک کا طریقۂ کار تبدیل کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ کے معطل ججوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں خوشی ہے کہ وہ سب اب تک منظم طریقے سے ڈٹے ہوئے ہیں سیسہ پلائی دیوار کی طرح۔ ان کا کہنا تھا کہ ’نو مارچ کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ہمارے احتجاج کی علامت تھے اور آج وہ نظر بند ہیں‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عام انتخابات میں اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ کہیں وکلاء کی تحریک سیاسی جماعتیں ہائی جیک نہ کر لیں کیونکہ ’ہمارا اپنا پلیٹ فارم ہے اور وکلاء کا اتحاد بنیادی چیز ہے‘۔ منیر اے ملک نے اڈیالہ اور اٹک جیل میں ان پر جسمانی تشدد کی افواہوں سے انکار کیا تاہم ان کا اصرار تھا کہ ان کی خرابی صحت کی وجہ قید ہی تھی۔ ’اگر آپ چودہ گھنٹے ایک چھوٹے سے کمرے میں جہاں صرف ایک میٹرس ہو پڑے ہوں، قلم اور کاغذ چھین لیا جائے تو جسمانی سے زیادہ یہ ذہنی دباؤ تھا۔ مجھے اس سے قبل یہ تکلیف نہیں کبھی نہیں ہوئی‘۔ انہوں نے بتایا کہ دوران حراست انہیں پہلی رات اعتزاز احسن کے ساتھ اکٹھا اڈیالہ جیل میں رکھا گیا لیکن بعد میں انہیں اٹک منتقل کر دیا گیا۔ جیل میں انہیں اخبارات تک رسائی نہیں تھی لہذا وہ حالات سے بےخبر ہی رہے ہیں۔ | اسی بارے میں APDM کی کال پر احتجاج، گرفتاریاں23 November, 2007 | پاکستان فوج قومی نہیں قابض ہے: وکلاء22 November, 2007 | پاکستان وردی میں انتخاب کے خلاف احتجاج29 August, 2007 | پاکستان ڈِیل کی سیاست کے خاتمے کی اپیل31 July, 2007 | پاکستان بینچ وکلاء کیلیے چیلنج: منیر ملک01 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||