BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 November, 2007, 14:47 GMT 19:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ فائرنگ، تین اہلکار ہلاک

کوئٹہ فائرنگ(فائل فوٹو)
ہسپتال میں داخل اہلکار کی حالت تشویشناک ہے(فائل فوٹو)
کوئٹہ میں نامعلوم افراد نے یکے بعد دیگرے دو مختلف حملوں میں تین پولیس اہلکاروں کو ہلاک اور ایک کو زخمی کر دیا ہے۔

دونوں حملے جمعہ کو دس سے پندرہ منٹ کے وقفے کے اندر ہوئے۔

حملوں کا پہلا واقعہ جنار روڈ پر سائنس کالج کے چوک پر اور دوسرا قریب جان محمد روڈ پر پیش آیا تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا حملہ آور ایک ہی تھے اور یا مختلف تھے۔

کوئٹہ کے پولیس افسر رحمت اللہ نیازی نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے واقعہ میں نامعلوم افراد نے جناح روڈ پر سائنس کالج چوک پر تعینات ٹریفک پولیس کے اہلکاروں پر فائرنگ کی ہے جس سے دو اہلکار شدید زخمی ہوگئے جن میں سے ایک بعد ازاں ہسپتال میں دم توڑ گیا جبکہ دوسرے زخمی کی حالت تشویشناک ہے۔

دوسرے واقعہ میں نا معلوم افراد نے جناح روڈ پر تبلیغی مرکز صدیقیہ مسجد کے سامنے پولیس کی گشتی ٹیم پر فائرنگ کی ہے جس سے دو اہلکار ہلاک ہوگئے۔

اس کے علاوہ قلات شہر میں دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں لیکن کسی نقصان کی اطلاع نہیں ہے جبکہ کوہلو میں نا معلوم افراد نے بجلی کے دو کھمبوں کو دھماکوں سے اڑادیا ہے۔

ادھر نوابزادہ بالاچ مری کی ہلاکت کے بعد احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جمعہ کو تیسرے روز بھی جاری رہا اور کوئٹہ میں بلوچ خواتین نے یونیورسٹی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جبکہ کوہلو میں ضلعی اسمبلی نے بالاچ مری کے حوالے سے ایک تعزیتی قرار داد منظور کی۔

کوئٹہ میں ہڑتال
سریاب روڈ اور بروری کے علاقے میں کشیدگی رہی

بلوچستان یونیورسٹی کے سامنے بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی طالبات نے مظاہرے کے دوران سخت نعرہ بازی کی ہے۔ تربت سے بی ایس او کے کارکنوں نے بتایا ہے کہ مند، تمپ، بلیدہ، تجابان اور دیگر علاقوں میں دکانیں بند رہیں اور روڈ بلاک کر دیے گئے تھے۔ کوئٹہ میں بھی سریاب روڈ اور بروری کے علاقے میں کشیدگی رہی۔

اس کے علاوہ کوہلو میں ضلع اسمبلی نے بالاچ مری کی ہلاکت پر ایک تعزیتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی ہے۔ یہ قرار داد ضلعی ناظم انجنیئر علی گل مری نے پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ چونکہ نواب خیر مخش مری نے فاتحہ خوانی نہیں لی اس لیے ضلع اسمبلی میں فاتحہ خوانی نہیں کی گئی۔

اسی بارے میں
سندھ، بلوچستان میں احتجاج
22 November, 2007 | پاکستان
میر بالاچ مری ہلاک، ہنگامے
21 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد