بالاچ ہلاکت:’باہمی عناد کا شاخسانہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسپکٹر فرنٹیئر کور بلوچستان میجر جنرل سلیم نواز نے دعوٰی کیا ہے میر بالاچ مری کی ہلاکت دو دھڑوں کے باہمی عناد کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ جمعہ کو کوئٹہ میں جاری ہونے والے ایک بیان میں آئی جی ایف سی نے کہا ہے بالاچ مری کے اپنے خاندان کا یہ بیان کہ اس کی لاش کو امانتاً افغانستان میں دفن کریں گے اور ایسے حالات میں براہمدغ کی مکمل خاموشی اس بات کو عیاں کرتی ہے کہ نہ صرف بالاچ مری افغانستان میں ہلاک ہوئے بلکہ ان دونوں افراد کے درمیان کچھ تو ہے جس کی پردہ داری کی جا رہی ہے۔ تاہم دبئی میں مقیم بالاچ مری کے بڑے بھائی گزن مری نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان دعوؤں کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان افواہوں سے سب سے زیادہ دکھ براہمداغ کو ہی پہنچا ہے۔ آئی جی نے بیان میں ان اطلاعات کی بھی تردید کی ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان اسمبلی کے سابق رکن نوابزاد بالاچ مری بلوچستان میں ہلاک ہوئے ہیں اور کہا ہے کہ صوبے کے کسی علاقے میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا اور اس سلسلے میں جھوٹی خبریں دینا افسوسناک بلکہ ملک دشمنی ہے۔ بیان میں آئی جی ایف سی نے کہا کہ’بالاچ مری کی افغانستان میں ہلاکت 20 نومبر کو سامنے آئی اور اس ہلاکت کے بارے میں مختلف کہانیاں منظر عام پر آئی ہیں کیونکہ میر بالاچ مری اور براہمدغ بگٹی گزشتہ ایک سال سے افغانستان میں موجود تھے جس کی تصدیق مختلف اوقات میں ہوتی رہی ہے‘۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ’اگرچہ یہ دونوں افراد بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں جس کے لیے انہیں بیرونی امداد بھی میسر ہے لیکن اس امر میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان دونوں شخصیتوں میں کچھ ایسی باتیں ہیں جو وجہ عناد رہی ہیں‘۔ آئی جی ایف سی کے مطابق’یہ بات یقینی ہے کہ 1970 ءکی دہائی میں مریوں کے خلاف ہونے والے آپریشن کے نتیجے میں مری اور بگٹی سرداروں کے درمیان دشمنی پیدا ہوئی تھی جب نواب اکبر بگٹی بلوچستان کے گورنر تھے اور بعد میں یہ بات بھی منظر عام پر آئی کہ ڈیرہ بگٹی میں 2005ء میں اکبر بگٹی اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں بالاچ مری نے اکبر بگٹی کو اکیلا چھوڑ دیا تھا جس کی وجہ سے ناراضگی میں اضافہ ہوا‘۔ بیان کے مطابق’اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد یہ حقائق بھی منظر عام پر آئے کہ بالاچ مری اپنی نام نہاد جدوجہد کو بگٹی قبائل کی سرپرستی نہیں دیکھنا چاہتے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے اکبر بگٹی کی کمین گاہ پر ایسے حالات پیدا کیے کہ اکبر بگٹی تو ہلاک ہوگئے جبکہ بالاچ مری محفوظ رہے اور یہ ایک ایسا واقعہ تھا جسے اکیلا رہ جانے والا براہمدغ نظرانداز نہیں کر سکتا تھا۔ اگرچہ بعد ازاں بالاچ مری اور براہمدغ افغانستان میں کام کر رہے تھے تاہم ان کے آپس کے شخصی اختلافات اور اس کے علاوہ کچھ اور گھریلو تنازعات جن کا بالاچ مری کے خاندان کو مکمل علم ہے ایسی وجوہات ہیں جن سے قطع نظر نہیں کیا جاسکتا اس لیے اب کوئی جو کچھ بھی کہتا رہے اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ بالاچ مری کی ہلاکت ایسے ہی عناد کا شاخسانہ ہوسکتی ہے‘۔ |
اسی بارے میں بلوچ تحریک نہیں رکے گی: مینگل22 November, 2007 | پاکستان ’جمہوریت یا پنجاب کی بالادستی‘22 November, 2007 | پاکستان بالاچ مری: ایک اور ’بلوچ قومی ہیرو‘22 November, 2007 | پاکستان بلوچستان: شدید رد عمل، پانچ ہلاک 22 November, 2007 | پاکستان سندھ، بلوچستان میں احتجاج22 November, 2007 | پاکستان ’اور کوئی مزاحمت کار سامنے آجائیں‘22 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||