BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 November, 2007, 09:36 GMT 14:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بالاچ مری: ایک اور ’بلوچ قومی ہیرو‘

بالاچ مری
اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد بالاچ ا یک بار پھر بلوچ مزاحمت کاروں کے امیدوں کا محور بن گئے تھے
اٹھائیس نومبر دو ہزار دو کو بلوچستان اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد نوابزادہ بالاچ مری نے ایوان میں کھڑے ہوکراپنےخطاب کے دوران کہاتھا کہ ’پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کے معنی پنجاب کی بالادستی کو فروغ دینا ہے کیونکہ قومی اسمبلی میں اگر سندھ، بلوچستان اور صوبہ سرحد کے تمام اراکین متحد ہوکر بھی کوئی قانون یا قرارداد پاس کرنا چاہیں تو وہ مطلوبہ تعداد پورا نہیں کرسکتے جبکہ پنجاب اپنی عددی اکثریت کے زور پر ایسا کرسکتا ہے لہذا چھوٹے صوبوں کو چاروں اکائیوں کے درمیان برابری کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کرنے کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔‘

ووٹ کے ذریعے اسمبلی میں پہنچ کر پاکستان کے آئین کے تحت حلف اٹھانے والے بالاچ مری میں کچھ ہی عرصے کے دوران ایک ایسی تبدیلی رونما ہوئی کہ اپنے پیشروؤں کی نقش قدم پر چلتے ہوئے انہوں نے بندوق اٹھائی اور پہاڑوں پر چڑھ گئے جسکے بعد انہوں نے کہا کہ’ ہم نے پنجاب کی غلامی اور جبر سے نجات پانے کے لیے آزادی کی جدوجہد شروع کردی ہے۔‘

ایک اور موقع پر انہوں نے کہا ’محرومیاں اتنی بڑھ چکی ہیں کہ ہمیں پاکستان کےتوڑے جانےکا کوئی غم نہیں اور اب صورتحال مزید گھمبیر ہوجائے گی۔‘

اسمبلی کے فلور پر خطاب کے دوران سرخ رنگ کی گول ٹوپی پہنے، ہلکی سی داڑھی اور نوابی مونچھوں کے مالک یہ نوجوان بلوچستان کی سیاسی بساط پر جمہوری عمل میں شامل دیگر بلوچ لیڈروں کی طرح ایک ایسا اضافی مہرہ نظر آرہے تھے جنکا کام بظاہرتو بلوچوں کے قومی حقوق کا ’ کھوکلا‘ نعرہ لگانا ہے جبکہ پس پردہ اپنے سیاسی اور قبائلی مفادات کے حصول کے لیے اسٹبلشمنٹ کے در پر سربسجود ہونا تھا۔

مگر کچھ عرصے بعد پہاڑوں پر چڑھنے کے بعد جب اخبارات میں انکی تصاویر شائع ہوئی تو کمانڈو وردی میں ملبوس، لمبے بالوں اور بڑی داڑھی والے ’گوریلا‘ بالاچ مری کو زیادہ تر بلوچ قوم پرست نوجوانوں نے بلوچ مزاحمت کا’چے گویرا‘ سمجھتے ہوئےانکی تصویر کو اپنےکمپیوٹر اسکرین اور کالج کی کتاب اور کاپیوں پر چسپاں کردیا۔

بلوچستان کے معروف قوم پرست سیاستدان نواب خیر بخش مری کے فرزند ہونے کے ناطے بالاچ مری کو بلوچستان میں دوہزار دو کے بعد شروع ہونے والے فوجی آپریشن کے دوران بلوچستان کے طول و عرض میں موجود متوسط اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں میں زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ان نوجوانوں نے بالاچ مری کے زیرکمان ٹریننگ کیمپوں میں تربیت حاصل کی جن میں سے کئی گرفتار ہوکر حکومت کے’ ٹارچر سیلوں‘ میں اب بھی پڑے ہیں۔

سن دو ہزار چار کے دوران جب نواب اکبر خان بگٹی نے بلوچوں کے حقوق کے حصول کے لیے پارلیمانی سیاست کو خیر باد کہتے ہوئے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا تو بگٹی جیسے زیرک، تجربہ کار اور ذہین سیاستدان کے سامنے نوجوان اور نو آموز بالاچ مری کی شخصیت دھندلا سی گئی تھی تاہم چھبیس اگست دو ہزار چھ کو نواب اکبر خان بگٹی کی ہلاکت کے بعد وہ ا یک بار پھر بلوچ مزاحمت کاروں کے امیدوں کا محور بن گیا۔

ایسے کٹر بلوچ قوم پرست جنہوں نے اٹھارہ سو انتالیس میں انگریزوں سے بلوچوں کی آزادی کے حصول کے لیے لڑائی کے دوران مارے جانے والے میر محراب خان سے لیکر خان محد عرف خان جان، غلام حسین بگٹی، نواب نوروز خان، علی محمد، لونگ خان، مجید بلوچ، حمید بلوچ اور نواب احمد خان بگٹی کو بلوچوں کی قومی آزادی کے ہیرو مان کر انکی تصاویر اپنے ڈرائنگ روم میں سجادی ہیں وہ بلوچ قومی آزادی کے جدجہد کے ایک سو ا ڑسٹھ سال بعد بھی آج بالاچ مری کو ان قومی ہیروز کی فہرست میں شامل کرکےانکی تصویر کو دیوار پر ٹانک ان میں ایک اور ’بلوچ قومی ہیرو‘ کا اضافہ کردیں گے۔

بالاچ مریکاہان کا بالاچ
بلوچ مزاحمت کی ایک اور علامت قربان
بگٹی، سوالیہ نشان
حکام کے بدلتے بیانات سے معاملے میں الجھاؤ
اکبر بگٹی کی ہلاکت
حکومت کی نئی پالیسی کا پہلا نشانہ؟
nawaz sharif’ تاریخ کا سیاہ باب‘
نواز شریف کا کہنا ہے بگٹی کا قتل سیاہ باب ہے
ہمارا قلعہ بند فوجی
اب پاکستانیوں کے لیے کوئی فریب بھی نہیں بچا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد