بالاچ کی تدفین افغانستان میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچ مزاحمت کار رہنما بالاچ مری کے بڑے بھائی گزن مری نے کہا ہے کہ ان کے بھائی کی لاش ساتھیوں کے پاس ہے اور اس کی افغانستان میں ہی امانت کے طور تدفین کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت یہ افواہیں پھیلا رہی ہے کہ بالاچ برہمداغ بگٹی سے تصادم میں مارے گئے ہیں۔ بالاچ مری دو دوز قبل پاک افغان سرحد پر ایک حملے میں مارے گئے تھے۔ ان کے والد نواب خیربخش مری نے ان کی موت کی اطلاع کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے ۔ میر گزن مری نے بتایا کہ انہیں ایک انتہائی قریبی ساتھی نے بالاچ کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی جسے وہ مصدقہ سمجھتے ہیں، ورنہ وہ غیر زمے دارانہ بیان نہیں دیتے کے ایسا کوئی واقعہ ہوا ہے۔ دبئی میں مقیم میر گزن مری کا کہنا تھا کہ ساتھیوں نے بتایا ہے کہ بالاچ کی لاش ان کے پاس موجود ہے اور اس کی کسی محفوظ جگہ تدفین کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ ویسے بالاچ کی میت پاکستان لائی جانی چاہئیے لیکن اس وقت بلوچستان جنگ کی حالت میں ہے اور ان حالات میں لاش امانت رکھی جاتی ہے۔ ’ساتھیوں کو ایسی کوئی مناسب جگہ نظر آئے جو دشمن کی پہنچ سے باہر ہو یا ان کی نگاہوں سے اوجھل ہو وہاں امانت کی طور پر رکھا جائیگا۔‘ میر گزن مری نے کہا کہ بالاچ مری کی نیٹو فوج کے حملے میں ہلاکت یا براہمداغ سے تصادم کی ہلاکت کی افواہیں پاکستان حکومت پہلا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالاچ مری کی ہلاکت سے خاندان اور مزاحمتی تحریک کو دھچکا تو پہنچا ہے مگر یہ عارضی ہے اور یہ تحریک مزید موثر ہوگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||