’اور کوئی مزاحمت کار سامنے آجائیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری نے کہا ہے کہ وہ یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ ان کا بیٹا بالاچ مری ہلاک ہوگیا ہے اور یہ کہ ان کے خیال میں صوبے کے حقوق کے لیے مسلح جدوجہد جاری رہنی چاہیے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں مری قبیلے کے سربراہ خیر بخش مری نے کہا کہ ’جب میں مان جاؤں گا تو جو دوست ہیں، بھائی ہیں، درد رکھتے ہیں وہ آسکتے ہیں، انہیں کہوں گا کہ میں ایک پھٹی چٹائی بچھاتا ہوں، سوکھی روٹی موجود ہے مگر میں اس وقت تک رسومات ادا نہیں کرنا چاہتا جب تک میرے دل کو اطمینان نہیں ہوجاتا‘۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ بالاچ کو مردہ نہیں مان سکتے، وہ زندہ ہے۔ انہوں نے وہاں موجود نواب اکبر بگٹی کے بیٹے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد نواب اکبر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ’مارا گیا، پھر کیوں اس کو لوگوں کے سامنے نہیں رکھا گیا، ان کے مطابق ’جب میرے ہوش و حواس اس کو مانیں گے تب میں مانوں گا اس سے پہلے میں رسومات ادا نہیں کرنا چاہتا ‘۔
نواب خیر بخش نے بتایا کہ وہ اپنے ذرائع سے معلومات حاصل نہیں کرسکے ہیں مگر جو اطلاعات آرہی ہیں اس میں کچھ میں کہا جارہا ہے کہ نیٹو افواج نے بالاچ کو مارا ہے، مارنے والے مجاہد یا طالبان تھے، کوئی کہتا ہے کہ پاکستانیوں نے مارا ہے اور کبھی کہا جارہا ہے کہ براہمداغ نے مارا ہے ۔ ’میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ مجھے قطعی طور پر برہمداغ ( نواب اکبر بگٹی کے پوتے پر ) پر شک نہیں ہے، مجھے اس پر اعتبار نہیں کہ براہمداغ اپنی آنکھ کیسے نکال سکتا ہے ‘۔ یہ کہتے ہوئے سردار خیر بخش مری کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ’میں نہیں سمجھتا کہ وہ اتنی بکاؤ چیز ہے، نہ جاہل ہے اور نہ ہی بے وقوف ہے‘۔ نواب خیر بخش مری کا کہنا تھا کہ’بالاچ درست راہ پر تھا، وہ بلوچستان مانگ رہا تھا، کوئی سڑک نہیں۔اس کی سمت درست تھی، غلطیاں نادانیاں ہوسکتی ہیں مگر دعویٰ صحیح تھا‘۔ جب نواب مری سے پوچھا گیا کہ اب کون اس مزاحمتی جنگ کو آگے بڑھاتے ہوئے نظر آتا ہے تو انہوں نے کہا’بہت ہیں جی اور بھی بہت نکل آئیں گے۔ بلوچوں میں ایسا قحط نہیں ہے۔‘ ’اگر میرے گھرانے کی بات ہے تو یہاں بھی شکر ہے ایسا کوئی قحط نہیں ہے۔ بالاچ مزاحمت کی نشانی بن گیا تھا‘۔ ’میں اپنے قبیلے اور بلوچوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ وہ بلوچستان کے مالک ہیں اور موثر راستہ مسلح جدوجہد ہے۔ الیکشن کے ذریعے حق حاصل نہیں ہوسکتے، طاقت کا راج نہیں انصاف ہونا چاہیے۔ بندوقچی کے خلاف بندوق اٹھانے کے علاوہ کوئی موثر علاج نہیں‘۔ اسی اثنا کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو نواب خیر بخش مری کے گھر گئیں اور ان سے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں بلوچستان میں فوجی آپریشن کی وجہ سے خیر بخش مری سمیت بلوچ قوم پرست رہنما بھٹو سے ناراض تھے۔ نواب خیر بخش مری سے بینظیر بھٹو کی یہ پہلی ملاقات بتائی جارہی ہے۔ |
اسی بارے میں ’جمہوریت یا پنجاب کی بالادستی‘22 November, 2007 | پاکستان بالاچ مری: ایک اور ’بلوچ قومی ہیرو‘22 November, 2007 | پاکستان بلوچستان میں ہڑتال کا اعلان25 December, 2006 | پاکستان بلوچستان: مظاہرے، چار رہنما گرفتار21 May, 2007 | پاکستان پابندیاں پھر بھی بی این پی کا جلسہ03 June, 2007 | پاکستان بلوچستان میں بھوک ہڑتالی کیمپ28 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||