BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 November, 2006, 15:48 GMT 20:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بی این پی کے رہنماگرفتار

فائل فوٹو
بی این پی نے لشکر بلوچستان کے نام سے گوادر سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے
پولیس نے گوادر تربت اور خضدار سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کیا ہے جبکہ خضدار میں ان گرفتاریوں کے خلاف ہڑتال کی گئی ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹری حبیب جالب ایڈووکیٹ نے بتایا ہے کہ ان کی جماعت نے لشکر بلوچستان کے نام سے گوادر سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے جس سے خائف ہو کر حکومت نے ان کے کارکنوں کی گرفتاری کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

یہ لانگ مارچ تیس نومبر کو گوادر سے شروع ہو گی اور گیارہ دسمبر کو یہاں کوئٹہ میں اختتام پزیر ہو گی۔

حبیب جالب ایڈووکیٹ نے بتایا ہے کہ گوادر سے آٹھ تربت سے چار اور خضدار سے بھی چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی صدور بھی شامل ہیں۔

گوادر سے مقامی صحافی بہرام بلوچ نے بتایا ہے کہ گوادر سے گرفتار کیے گئے کارکنوں کو تربت منتقل کیا جا رہا ہے اور اس موقع پر نہ تو صحافیوں کو گرفتار افراد سے ملنے دیا گیا اور نہ ہی پولیس حکام اس بارے میں کچھ بات کر تے ہیں۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان رازق بگٹی سے رابطہ قائم کیا تو انھوں نے اس بارے میں لا علمی کا اظہار کیا ہے جبکہ بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

اسی بارے میں
سول نافرمانی تحریک کا اعلان
19 September, 2006 | پاکستان
بی این پی نے استعفے دے دیئے
04 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد