بی این پی کے رہنماگرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس نے گوادر تربت اور خضدار سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کیا ہے جبکہ خضدار میں ان گرفتاریوں کے خلاف ہڑتال کی گئی ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹری حبیب جالب ایڈووکیٹ نے بتایا ہے کہ ان کی جماعت نے لشکر بلوچستان کے نام سے گوادر سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے جس سے خائف ہو کر حکومت نے ان کے کارکنوں کی گرفتاری کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ یہ لانگ مارچ تیس نومبر کو گوادر سے شروع ہو گی اور گیارہ دسمبر کو یہاں کوئٹہ میں اختتام پزیر ہو گی۔ حبیب جالب ایڈووکیٹ نے بتایا ہے کہ گوادر سے آٹھ تربت سے چار اور خضدار سے بھی چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی صدور بھی شامل ہیں۔ گوادر سے مقامی صحافی بہرام بلوچ نے بتایا ہے کہ گوادر سے گرفتار کیے گئے کارکنوں کو تربت منتقل کیا جا رہا ہے اور اس موقع پر نہ تو صحافیوں کو گرفتار افراد سے ملنے دیا گیا اور نہ ہی پولیس حکام اس بارے میں کچھ بات کر تے ہیں۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان رازق بگٹی سے رابطہ قائم کیا تو انھوں نے اس بارے میں لا علمی کا اظہار کیا ہے جبکہ بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ | اسی بارے میں پشاور و قبائلی علاقوں میں احتجاج03 November, 2006 | پاکستان سول نافرمانی تحریک کا اعلان 19 September, 2006 | پاکستان فوجی آپریشن بند کروایا جائے: مینگل13 September, 2006 | پاکستان بی این پی نے استعفے دے دیئے04 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||