بلوچستان: مظاہرے، چار رہنما گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان نیشنل پارٹی نے سیاسی قائدین کی گرفتاریوں اور بلوچستان میں فوجی کارروائی کے خلاف کوئٹہ اور قلات میں احتجاجی مظاہرے کیے جس کے بعد کوئٹہ میں جماعت کے چار رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا۔ خضدار میں پولیس نے مظاہرہ نہیں کرنے دیا۔ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے کے فورا بند بلوچستان نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹری حبیب جالب ایڈووکیٹ ولی کاکڑ، رزاق لانگو اور آغا حسن کو پولیس نے گرفتار کرکے بجلی تھانے پہنچا دیا۔ حبیب جالب ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ سب ان کی جماعت کے کارکنوں کو اشتعال دلانے کے لیے کیا گیا ہے۔ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جماعت کے کارکنوں نے حکومت کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی ہے جبکہ قلات میں احتجاجی مظاہرہ پرامن رہا۔ ادھر خضدار میں ایک ہفتے کے اندر یہ دوسرا موقع ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کو خضدار میں احتجاجی مظاہرہ نہیں کر نے دیا گیا۔ جماعت کے رہنما اور مستعفی ہونے والے رکن قومی اسمبلی رؤف مینگل نے کہا کہ صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ نے ان کی جماعت کے لیے تمام جمہوری راستے بند کر دیے ہیں۔ یاد رہے گزشتہ سال نومبر میں بی این پی نے لشکر بلوچستان کے نام سے گوادر سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا لیکن اس سے پہلے جماعت کے تقریباً تمام مرکزی قائدین کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ تربت میں میرانی ڈیم کے متاثرین کوئی دس روز سے احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں ان کے نقصان کی رقم ادا نہیں کی جارہی اور ڈیم کا پانی ان کے گھروں تک پہنچ رہا ہے۔ | اسی بارے میں کراچی میں بی این پی کا مظاہرہ04 February, 2007 | پاکستان بی این پی کے نائب صدر گرفتار15 December, 2006 | پاکستان بی این پی کے رہنماگرفتار25 November, 2006 | پاکستان بی این پی نے استعفے دے دیئے04 September, 2006 | پاکستان بی این پی کے رہنما چھ روز سے لاپتہ03 July, 2006 | پاکستان تشدد: بی این پی کی یاد داشت 05 July, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||