تشدد: بی این پی کی یاد داشت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہریوں اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاری اور ان پر ذہنی اور جسمانی تشدد کے خلاف پیر کو بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار اختر مینگل نے انسانی حقوق کی تنظیم کے چیئر مین کو ایک یادداشت پیش کی ہے اور کہا ہے کہ ان حالات کا انسانی حقوق کے حوالے سے نوٹس لیا جائے۔ بلوچ قوم پرست جماعتوں کے قائدین آئے روز اخباری کانفرس اور بیانات کے ذریعے یہ دعوی کرتے ہیں کہ صوبے کے مختلف شہروں سے ان کے کارکنوں کو مختلف طریقوں سے گرفتار کرکے ان پر تشدد کیا جاتا ہے۔ سردار اختر مینگل نے چھ صفحات پر مشتمل یادداشت انسانی حقوق کی تنظیم کے پاکستا ن کے چیئرمین طاہر محمد خان اور تنظیم کے بلوچستان کے چیئرمین ظہور احمد شاہوانی کو پیش کی ہے جس میں مختلف کارکنوں کی گرفتاریوں اور ان پر جسمانی اور ذہنی اذیتوں کا ذکر ہے۔ سردار اختر مینگل نے کہا ہے فوجی حکمرانوں کے دور میں سیاسی قائدین اور کارکنوں کی گرفتاریاں معمول سے ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سے جنرل پرویز مشرف اقتدار میں آئے ہیں سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرکے ان سے جرائم پیشہ افراد جیسا سلوک کیا جا رہا ہے اور ان پر اسی طرح کے مقدمے درج کیے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے سیاسی کارکنوں کی گرفتاری کا مقصد انھیں ان کے نظریے سے ہٹانا ہے اور ان کو سیاست سے علیحدہ رکھنا ہے۔ لیکن انھوں نے کہا ہے کہ وہ اس سے مرعوب نہیں ہوں گے۔ بی این پی کے جنرل سیکرٹری حبیب جالب ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ اس وقت چار ایف آئی آر تو اپنے آپ کو محکوم کہلوانے والی قوم پرست جماعتوں کے قائدین کے خلاف پولیس سٹیشن میں درج ہیں اور ان میں بغاوت جیسے مقدمے شامل ہیں اس کے علاوہ کئی انسانی حقوق سے وابستہ مقدمات ہیں اور ایک سیاسی کارکن کی رہائی کے احکامات تک ہائی کورٹ نے جاری کیے ہیں لیکن رہائی عمل میں نہیں آرہی۔ گزشتہ روز نیشنل پارٹی کے قائدین ڈاکٹر عبدالمالک اور طاہر بزنجو نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا تھا کہ ان کی جماعت کے کارکنوں کو بھی گرفتار کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ کچھ روز قبل ڈاکٹر عبدالمالک اور بی این پی کے لیڈر ملک عبدالولی کاکڑ کو حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے پر گرفتار کرکے جیل ڈال دیا گیا تھا۔ انھیں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے غیر حاضری پر تین سال کی قید کی سزا سنائی تھی۔ کچھ روز جیل میں گزارنے کے بعد ان کی درخواست پر انھیں ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔حکومت پالیسیوں پر تنقید کرنے پر ان کے خلاف بغاوت جیسے مقدمات درج کئے گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||