قوم پرست جماعتوں کا احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں نئی چھاونیوں کے قیام اور گوادر میگا پراجیکٹ کے حوالے سے چار بلوچ قوم پرست جماعتوں نے مشترکہ تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس بارے اٹھارہ جون کو یوم سیاہ منایا جائے گا۔ کوئٹہ پریس کلب میں نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ جمہوری وطن پارٹی کے آغا شاہد بگٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے حبیب جالب نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی یہ تحریک بلوچستان کے حقوق کے حوالے سے ہے اور یہ تب تک جاری رہے گی جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کر لیے جاتے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان کے ساتھ نواب خیر بخش مری کی جماعت حق توار بھی شامل ہے۔ ان جماعتوں کے قائدین نے کہا ہے کہ اس وقت دو بڑے مسائل درپیش ہیں ایک نئی چھاونیوں کے قیام کے نام پر بلوچستان کے وسائل پر قبضہ اور دوسرا گوادر میگا پراجیکٹ کے نام پر مقامی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرکے وہاں زمینیں ہتھیائی جا رہی ہیں جس کی وہ مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے گوادر میگا پراجیکٹ پر کام بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ گوادر سوئی اور کوہلو میں مجوزہ فوجی چھاونیوں کے قیام کی وہ ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ ڈاکٹر عبدالحئی نے کہا ہے کہ اس احتجاجی تحریک کے پہلے مرحلے میں اٹھارہ جون کو یوم سیاہ منایا جائے گا اس کے بعد اگست میں آل پارٹیز کانفرنس کوئٹہ میں منعقد کی جائے گی اور اسی دوران قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے ساتھ مل کر زبردست احتجاج کیا جائے گا اور اسمبلی کے باہر مظاہرے کیے جائیں گے۔ آغا شاہد بگٹی نے کہا ہے کہ سوئی میں مقامی لوگوں نے فوجی چھاونیوں کے قیام کے لیے زمینیں دینے سے انکار کیا ہے لیکن ارباب اختیار نے زبردستی انتظامیہ سے زمینوں کے کاغذات حاصل کر لیے ہیں جس کی وہ سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ حبیب جالب نے کہا ہے کہ گوادر میں نیول بیس کے لیے اونے پونے داموں زمینیں حاصل کی گئی ہیں اور کی جارہی ہیں۔ مقامی آبادی کو بے دخل کیا جارہا ہے ۔گوادر میں مقامی آبادی کی رجسٹریشن کی جاری ہے اور ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ گوادر میں فوج کے کچھ دستے بھیج دیے گئے ہیں جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اپنے ہی لوگوں کو فتح کرنا چاہتی ہے۔ یاد رہے کہ بلوچستان اسمبلی نے گزشتہ سال ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے چھاونیوں کے قیام کو مسترد کر دیا تھا لیکن بقول قوم پرست جماعتوں کے قایدین کے چھانیوں کے قیام کا کام بدستور جاری ہے۔ اس صورتحال پر بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف نے گزشتہ روز تحریک استحقاق پیش کی اور چھاونیوں کے قیام پر جاری کام روکنے کا مطالبہ کیا جسے ڈپٹی سپیکر اسلم بھوتانی جو اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ووٹنگ کے ذریعے مسترد کر دیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ تحریک استحقاق پر ووٹنگ ہوتی ہی نہیں ہے بلکہ اسے کمیٹی کے سپرد کر دیا جاتا ہے تاکہ اس پر اپنی رپورٹ پیش کرے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||