BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 March, 2004, 17:47 GMT 22:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ: حکومت کے استعفےکامطالبہ

کوئٹہ: حکومت کے استعفےکامطالبہ
حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں نے صوبائی حکومت کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے لیے اسمبلی میں درخواست جمع کرادی ہے۔

اس درخواست کے پیچھے حال ہی میں کوئٹہ میں ہونے والی دہشت گردی اور امن و امان کی خراب صورتِ حال سے ہے۔

اس کے علاوہ کوئٹہ میں عاشورہ کہ ماتمی جلوس پر حملے اور املاک کو نقصان پہنچانے کے عمل کی تحقیقات کے لئے قا ئم ٹریبیونل نے گواہوں کے بیانات قلمبند کرنا شروع کر دیا ہے۔

بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ صوبے میں بد امنی کا راج ہے۔ گزشتہ آٹھ ماہ میں تین بڑے سانحے ہو چکے ہیں لیکن صوبائی حکومت ٹس سے مس بھی نہیں ہوئی۔ بے روزگاری مہنگائی اور بد انتظامی اپنی جگہ پر قائم ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ ایسی صورتحال میں اسمبلی کا اجلا س طلب کیا گیا تاکہ موجودہ حالات پر بحث کی جائے اور حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے مستعفی ہو جائے۔ اس وقت اسمبلی میں ایسےلوگ ہیں جو صوبے کا انتظام بہتر طور پر چلا سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ حزب اختلاف ایسی حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہے جو صوبے کا انتظام بہتر طور پر چلا سکے ۔

اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے لیے درخواست پر حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کے اراکین نے دستخط کیے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال آٹھ جون اور چار جولائی کے واقعات کے بعد بھی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا اور فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پر بحث بھی ہوئی تھی لیکن اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

گزشتہ سال کے دونوں واقعات میں میں لگ بھگ شیعہ مسلمانوں کے ساٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ عاشورہ کے جلوس پر حملہ اور املاک کو نقصان پہنچانے سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد پچاس تک پہنچ چکی ہے ان میں چھ پولیس اہلکار اور دو حملہ آور بھی شامل ہیں۔

ادھر آج منگل کے روز ہائی کورٹ کے جج جسٹس نادر خان کی سربراہی میں قائم ٹریبیونل نے عاشورہ کے ماتمی جلوس پر حملے اور املاک کو نقصان پہنچانے والے واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس بابت اٹھارہ گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں۔

گورنر بلوچستان اویس احمد غنی نےگزشتہ روز کہا تھا کہ ٹریبیونل کی رپورٹ کچھ دنوں میں پیش کر دی جائے گی جس کے بعد اصل حقائق سامنے آجائیں گے۔

آج اندرون شہر کرفیو میں بارہ گھنٹے کے لیے نرمی کی گئی تھی لیکن کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکار اور فوجی دستے شہر میں مسلسل گشت کرتے رہے۔ اس کے علاوہ شیعہ برادی اس واقعے میں ہلاک ہونے ولے افراد کا سوگ منا رہی ہے جبکہ دوسری جانب تاجر برادری املاک اور مال کو پہنچنے والے نقصان پر پریشان ہے اور اس کا ازالہ چاہتی ہے ۔

اس حوالے سے حکومت نے ناظم کوئٹہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی ہے جس نے حکومت کو رپورٹ پیش کرنا تھی لیکن تاحال اس رپورٹ کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد