’جمہوریت یا پنجاب کی بالادستی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نوابزادہ بالاچ مری نے اٹھائیس نومبر دو ہزار دو کو بلوچستان اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد ایوان میں اپنےخطاب میں کہا تھا کہ ’پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کے معنی پنجاب کی بالادستی کو فروغ دینا ہیں کیونکہ قومی اسمبلی میں اگر سندھ، بلوچستان اور صوبہ سرحد کے تمام اراکین متحد ہوکر بھی کوئی قانون یا قرارداد پاس کرنا چاہیں تو وہ مطلوبہ تعداد پوری نہیں کرسکتے جبکہ پنجاب اپنی عددی اکثریت کے زور پر ایسا کرسکتا ہے، لہذا چھوٹے صوبوں کو چاروں اکائیوں کے درمیان برابری کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کرنے کے لیے جدوجہد کرنی چاہیئے۔‘ بیلٹ (ووٹ) کے ذریعے اسمبلی میں پہنچ کر پاکستان کے آئین کے تحت حلف اٹھانے والے بالاچ مری میں کچھ ہی عرصے کے دوران ایک ایسی تبدیلی رونما ہوئی کہ انہوں نے بندوق اٹھائی اور پہاڑوں پر چڑھ گئے جسکے بعد انہوں نے کہا کہ’ ہم نے پنجاب کی غلامی اور جبر سے نجات پانے کے لیے آزادی کی جدوجہد شروع کردی ہے۔‘ ایک اور موقع پر انہوں نے کہا کہ’محرومیاں اتنی بڑھ چکی ہیں کہ ہمیں پاکستان کےتوڑے جانےکا کوئی غم نہیں اور اب صوتحال مزید گھمبیر ہوجائے گی۔‘ اسمبلی کے فلور پر خطاب کے دوران سرخ رنگ کی گول ٹوپی پہنے، ہلکی سی داڑھی اور نوابی مونچھوں کا مالک یہ نوجوان بلوچستان کی سیاسی بساط پر جمہوری عمل میں شامل دیگر بلوچ لیڈروں کی طرح ایک ایسا اضافی مہرہ نظر آ رہا تھا جس کا کام بظاہرتو بلوچوں کے قومی حقوق کا ’ کھوکلا‘ نعرہ لگانا ہے جبکہ پس پردہ اپنے سیاسی اور قبائلی مفادات کے حصول کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے در پر سربسجود ہونا تھا۔
مگر کچھ عرصے بعد پہاڑوں پر چڑھنے کے بعد جب اخبارات میں ان کی تصاویر شائع ہوئی تو کمانڈو وردی میں ملبوس، لمبے بالوں اور بڑی داڑھی والے ’گوریلا‘ بالاچ مری کو زیادہ تر بلوچ قوم پرست نوجوانوں نے بلوچ مزاحمت کا ’چے گویرا‘ سمجھتے ہوئےان کی تصویر کو اپنےکمپیوٹر اسکرین اور کالج کی کتابوں کاپیوں پر چسپاں کردیا۔ بلوچستان کے معروف قوم پرست سیاستدان نواب خیر بخش مری کے فرزند ہونے کے ناطے بالاچ مری کو بلوچستان میں دوہزار دو کے بعد شروع ہونے والے فوجی آپریشن کے دوران بلوچستان کے طول و عرض میں موجود متوسط اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں میں زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان نوجوانوں نے بالاچ مری کے زیرکمان ٹریننگ کیمپوں میں تربیت حاصل کی جن میں سے کئی گرفتار ہوکر حکومت کے’ ٹارچر سیلوں‘ میں اب بھی پڑے ہیں۔ سن دو ہزار چار کے دوران جب نواب اکبر خان بگٹی نے بلوچوں کے حقوق کے حصول کے لیے پارلیمانی سیاست کو خیر باد کہتے ہوئے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا تو بگٹی جیسے زیرک، تجربہ کار اور ذہین سیاستدان کے سامنے نوجوان اور نو آموز بالاچ مری کی شخصیت دھندلا سی گئی تھی تاہم چھبیس اگست دو ہزار چھ کو نواب اکبر خان بگٹی کی ہلاکت کے بعد وہ ا یک بار پھر بلوچ مزاحمت کاروں کی امیدوں کا محور بن گیا۔
ایسے کٹر بلوچ قوم پرست جنہوں نے اٹھارہ سو انتالیس میں انگریزوں سے بلوچوں کی آزادی کے حصول کے لیے لڑائی کے دوران مارے جانے والے میر محراب خان سے لیکر خان محد عرف خان جان، غلام حسین بگٹی، نواب نوروز خان، علی محمد، لونگ خان، مجید بلوچ، حمید بلوچ اور نواب احمد خان بگٹی کو بلوچوں کی قومی آزادی کے ہیرو مان کر ان کی تصاویر اپنے ڈرائنگ روم میں سجادی ہیں وہ بلوچ قومی آزادی کی جدجہد کے ایک سو ا ڑسٹھ سال بعد آج بالاچ مری کو ان قومی ہیرو کی فہرست میں شامل کر کےان کی تصویر کو دیوار پر ٹانک کر ان میں ایک اور ’بلوچ قومی ہیرو‘ کا اضافہ کردیں گے۔ عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ نوابزادہ بالاچ مری نرم گفتار کے مالک تھے اور بلوچستان کے حقوق کے حصول کے لیے آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت سے پہلے کئی مرتبہ ان سے ٹیلیفون پر رابطہ رہتا تھا اور بات چیت کے دوران وہ بلوچوں اور بلوچستان کے حقوق بلوچوں کے وسائل پر اختیار کے لیے آواز بلند کرنے اور پاکستان کی اسٹبلشمنٹ سے ناراض رہتے تھے۔ بالاچ مری سن دو ہزار دو کے انتخابات کے دوران لندن میں تھے اور انتخابات میں حصہ لیا۔ ان انتخابات میں انہوں نے بڑی تعداد میں ووٹ حاصل کیے اور بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ انہوں نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں صرف ایک مرتبہ شرکت کی اور پھر اس کے بعد وہ کبھی اسمبلی کے اجلاس میں نہیں آئے۔ بالاچ مری نے ابتدائی تعلیم کوئٹہ پھر نواب خیر بخش مری کے جلاوطنی کے دور میں سیکنڈری سکول کی تعلیم افغانستان اور اعلیٰ تعلیم ماسکو میں حاصل کی۔ وہ انیس سو بیانوے میں واپس پاکستان آئے اور سیاست میں حصہ لیا۔
جنرل پرویز مشرف سے احتلافات کا ذکر تو رہتا تھا لیکن سب کچھ کھل کر اس وقت سامنے آیا جب صدر جنرل پرویز مشرف نے دسمبر میں کوہلو کا دورہ کیا اور اس دوران کوہلو میں نامعلوم افراد نے راکٹ داغے۔ جنرل مشرف کے اس دورے کی دعوت بالاچ مری کو بھی دی گئی تھی اور یہ کہا جاتا رہا کہ شاید بالاچ مری اس تقریب میں شرکت کریں لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ سترہ دسمبر دو ہزار پانچ کو کوہلو اور پھر تیس دسمبر دو ہزار پانچ کو ڈیرہ بگٹی میں مبینہ فوجی کارروائی شروع کر دی گئی تھی۔ حکومت کے مطابق یہ کارروائی فراری کیمپوں کے خلاف کی گئی اور اس وقت حکام نے دعوی کیا تھا کہ بلوچستان میں کشیدگی اور قومی تنصیبات پر حملوں میں ملوث افراد انہی کیمپوں میں تربیت حاصل کرتے ہیں۔ ان فراری کیمپوں کی تعداد کے بارے میں حکومت کی جانب سے مختلف دعوے سامنے آئے تھے، کبھی بیس کیمپ بتائے گئے تو کھبی سینتیس کیمپوں کی نشاندہی کی گئی تھی اور پھر یہ کہا گیا کہ تقریبا زیادہ تر فراری کیمپ ختم کردیے گئے اور ان کیمپوں میں لوگوں نے یا تو ہتھیار ڈال دیے ہیں اور یا مارے گئے ہیں۔ لیکن بلوچستان میں کشیدگی برقرار رہی۔ گزشتہ سال چھبیس دسمبر کو نواب اکبر بگٹی ایک فوجی کارروائی میں مارے گئے اور یہ کہا جاتا رہا کہ اس کارروائی کے دوران بالاچ مری اور براہمدغ بگٹی ان کے ہمراہ تھے اور حملے سے کچھ دیر پہلے نواب بگٹی نے انہیں زبردستی نکل جانے کا کہا تھا جس وجہ سے وہ محفوظ رہے تھے۔ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد بالاچ مری سے ٹیلیفون پر رابطے نہیں ہوئے لیکن ان کی جانب سے کبھی کبھار کوئی بیان جاری کر دیا جاتا تھا۔ |
اسی بارے میں بلوچستان: شدید رد عمل، پانچ ہلاک 22 November, 2007 | پاکستان بلوچستان: احتجاج سینکڑوں گرفتار19 November, 2007 | پاکستان بلوچ علاقوں میں عید پر یوم سیاہ14 October, 2007 | پاکستان بلوچستان: یومِ آزادی اور احتجاج 14 August, 2007 | پاکستان بلوچستان:سخت حفاظتی انتظامات01 August, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||