BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 June, 2007, 08:58 GMT 13:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پابندیاں پھر بھی بی این پی کا جلسہ

فائل فوٹو
بی این پی نے قائدین کی گرفتاریوں کیخلاف مظاہروں کا اعلان کیا تھا
بلوچستان نیشنل پارٹی نے پابندیوں کے باوجود اتوار کو نوشکی میں جلسہ اور احتجاجی مظاہرہ کیا ہے تاہم جماعت کے قائدین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

نوشکی کے پولیس افسر عیسیٰ جان نے بتایا کہ نوشکی میں چند دن قبل دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کر دی گئی تھی اور بی این پی کے دو رہنماؤں جہانزیب جمالدینی اور خورشید کو گرفتار کیا گیا ہے۔

جہانزیب جمالدینی نے تھانے سے ٹیلیفون پر بتایا کہ انہیں سٹیج تو نہیں بنانے دیا گیا تاہم انہوں نے لوگوں سے خطاب کیا جس دوران انہیں حراست میں لے لیا گیا جس کے بعد احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے گئے تھے۔

ادھر کوئٹہ میں بی این پی کے رہنما حبیب جالب نے بتایا کہ ان کے علاوہ جماعت کے دیگر رہنما ولی کاکڑ اور آغا حسن کو کوئٹہ قریب ہزار گنجی کے مقام پر پولیس نے حراست میں لے کر ریسٹ ہاؤس میں بٹھا دیا اور کوئی دس گھنٹے بعد رہا کیا گیا ہے۔

کوئٹہ کے پولیس افسر رحمت اللہ نیازی نے بتایا کہ بی این پی کے قائدین کو حراست میں نہیں لیا گیا بلکہ انہیں کوئٹہ سے باہر جانے نہیں دیا گیا۔

بلوچستان نیشنل پارٹی نے صوبے میں جاری فوجی کارروائی اور قائدین کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں اور جلسوں کا اعلان کیا تھا۔ اس سلسلے میں خضدار میں بی این پی کو جلسہ منعقد نہیں کر نے دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
بی این پی کے نائب صدر گرفتار
15 December, 2006 | پاکستان
بی این پی نے استعفے دے دیئے
04 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد