بلوچستان میں مظاہرے،گرفتاریاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان نیشنل پارٹی کی اپیل پر آج صوبے کے بیشتر اضلاع میں مظاہروں کے دوران پولیس نے بڑی تعداد میں گرفتاریاں کی ہیں جب کہ کوئٹہ میں مظاہرین نے سریاب روڈ پردو بسوں اور ایک جیپ کو آگ لگا دی ہے۔ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے آج صبح جب بلوچستان نیشنل پارٹی کے کارکن جماعت کے نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ کی سربراہی میں پہنچے تو مظاہرین نےحکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی کی اور حکومتی پالیسیوں کی مذمت کی ۔ مظاہرے کے بعد جب قائدین جا رہے تھے تو پولیس نے ساجد ترین کے علاوہ صادق رئیسانی ایڈووکیٹ رزاق لانگو اور غلام فاروق شاہوانی کوگرفتار کر لیا۔ ساجد ترین نےاس موقع پر کہا صوبہ بھر میں بڑی تعداد میں ان کے کارکنوں کوگرفتار کیا گیا ہے۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کوئٹہ رینج عبدالقادر تھیبو نے بتایا کہ کوئٹہ میں جمعرات کی رات سے چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک کل تینتیس قائدین اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ادھرتربت میں پولیس نے بلوچستان نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی کے کوئی چوبیس قائدین اور کارکنوں کو مظاہرے کے بعد گرفتار کیا تھا جن میں سے کچھ کو رہا کر دیا گیا ہے۔ پولیس اہلکاروں کے مطابق آٹھ افرادگرفتار ہیں۔گرفتار قائدین میں نیشنل پارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر یسین بلوچ سابق سپیکربلوچستان اسمبلی میراکرم دشتی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے محراب بلوچ ایڈووکیٹ شامل ہیں۔ | اسی بارے میں بی این پی کے رہنماگرفتار25 November, 2006 | پاکستان بلوچستان:گرفتاریاں اور مظاہرے27 November, 2006 | پاکستان مینگل: ’محکمۂ داخلہ کا حکم تھا‘28 November, 2006 | پاکستان احتجاج جاری رہے گا: اختر مینگل28 November, 2006 | پاکستان گوادر: حفاظتی انتظامات سخت03 May, 2004 | پاکستان الاٹمنٹ: بلوچ رہنماؤں کا خیرمقدم21 October, 2006 | پاکستان گوادر: مشرف کے دورے پر ہڑتال 16 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||