BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 November, 2006, 22:37 GMT 03:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مینگل: ’محکمۂ داخلہ کا حکم تھا‘

گّزشتہ سال بھی پولیس نےکراچی میں اختر مینگل کے گھر کا محاصرہ کیا تھا
بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس چوہدری محمد یعقوب نے کہا ہے کہ سردار اختر مینگل کو محکمہ داخلہ کے حکم پر نظر بند کیا گیا ہے اور یہ فیصلہ امن وامان کی صورتحال کے حوالے سے کیا گیا ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کو گزشتہ روز حب کے قریب ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کر دیا گیا تھا۔


بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بلوچستان نیشنل پارٹی اور بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مقامی قائدین اور کارکنوں کی گرفتاریوں کے بارے میں چوہدری محمد یعقوب نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد مظاہرین نے توڑ پھوڑ شروع کر دی تھی جس سے سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا تھا اور اس توڑ پھوڑ میں بی این پی کے کارکن زیادہ سرگرم تھے۔

بلوچستان کے انسپکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ بی این پی کے لانگ مارچ کے حوالے سے ہر ضلعے سے چار سے چھ سرگرم قائدین اور کارکنوں کو ایم پی او کے تحت ضلعی پولیس افسران نے حراست میں لیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ خدشہ پایا جاتا تھا کہ بی ان پی کے کارکن تشدد کی کارروائیاں کر سکتے ہیں۔

جب چوہدری یعقوب سے پوچھا گیا کہ سردار اختر مینگل کو کیوں نظر بند کیا گیا ہے تو انھوں نے کہا کہ اس کے احکامات محکمہ داخلہ نے جاری کیے ہیں اور اس کی وجوہات بھی یہی ہیں۔

ادھر کوئٹہ میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے نائب صدر ساجد ترین نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ سردار اختر مینگل کی رہائش گاہ پر مذید فورسز تعینات کی جارہی ہیں اور انھیں ڈر ہے کہ سردار اختر مینگل کو کہیں اور منتقل کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ یہ گرفتاریاں حکومت کی بوکھلاہٹ ہیں لیکن ان کارروائیوں سے لانگ مارچ نہیں رکے گا بلکہ مذید جوش سے اپنے مقررہ وقت پر شروع ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں بی این پی اور بی ایس او کے ساڑھے تین سو سے چار سو کارکنوں اور قائدین کو گرفتار کیا گیا ہے۔

بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے ان گرفتاریوں کے خلاف تربت مند خضدار نوشکی اور کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور بازووں پر کالی پٹیاں باندھیں۔

بعض اضلاع میں دکانیں اور کاروبار بھی بند رہے۔ بی ایس او کے جنرل سیکریٹری گلزار بلوچ نے کہا ہے کہ وہ لشکر بلوچستان کے نام سے لانگ مارچ کو ضرور کامیاب کریں گے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی نے تیس نومبر سے گوادر سے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور یہ لانگ مارچ گیارہ دسمبر کو کوئٹہ پہنچے گا جہاں مرکزی قائدین جلسے سے خطاب کریں گے۔

اس کے علاوہ منگل کو خواتین اور بچیوں نے بلوچستان ہائی کورٹ کے سامنے عبدالغفار لانگو کی مبینہ طور پر خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں گرفتاری کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔

عبدالغفار لانگو کی بہن نے صحافیوں کو بتایا کہ اگر ان کے بھائی نے کوئی جرم کیا ہے تو اسے عدالت میں پیش کرکے سزا دی جائے ورنہ اسے چھوڑ دیا جائے۔

اسی بارے میں
سول نافرمانی تحریک کا اعلان
19 September, 2006 | پاکستان
بی این پی نے استعفے دے دیئے
04 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد