سندھ، بلوچستان میں احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچ رہنما نواب بالاچ مری کی موت کے خلاف سندھ اور بلوچستان میں مظاہرے ہوئے ہیں۔ گزشتہ دو دن سے جاری ہنگاموں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ درجنوں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ کراچی میں نوجوانوں کے ایک گروپ نے لیاری کے علاقے آٹھ چوک اور کمیلا اسٹاپ پر سڑکوں پر ٹائر جلاکر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ لیاری کے بعض اندرونی علاقوں میں نوجوانوں کے مختلف گروپ نے ہوائی فائرنگ کر کے دوکانیں بند کرادیں جس کے بعد پولیس اور رینجرز کی نفری موقع پر پہنچ گئی۔ لیاری ٹاؤن کے پولیس آفیسر فیاض خان کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر لیاری کی صورتحال قابو میں ہے تاہم بعض مقامات سے اکا دکا احتجاج کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق نوابزادہ بالاچ مری کی ہلاکت کے بعد بلوچستان میں ہونے والے ہنگاموں میں شدت آ گئی ہے۔ پنجگور، قلات خضدار، نوشکی، تربت اور دیگر علاقوں میں ہڑتال ہے جبکہ بعض مقامات سے کشیدگی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ پنجگور سے سابق رکن صوبائی اسمبلی رحمت بلوچ نے بتایا ہے کہ مظاہرین نے بازار میں توڑ پھوڑ کی ہے اور ہوائی فائرنگ کی آوازیں سنی جا رہی ہیں۔ پولیس نے نیشنل پارٹی اور بلوچ نیشنل موومنٹ کے مقامی قائدین اور بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے کارکنوں کو بھی گرفتار کیا ہے۔ کوئٹہ میں جزوی ہڑتال ہے لیکن سریاب روڈ بروری کلی اسماعیل اور کلی شابو وغیرہ میں سخت کشیدگی ہے۔ مری اتحاد کے ترجمان کے مطابق ہزار گنجی کے علاقے میں مظاہرین نے توڑ پھوڑ کی ہے اور سڑکوں پر ٹائروں کو آگ لگی ہوئی ہے۔ سبی میں آج صبح ٹیلیفون ایکسچینج کے قریب دھماکہ ہوا جبکہ ڈیرہ بگٹی میں رات گئے بجلی کے دو کھمبوں کو دھماکوں سے اڑایا گیا ہے۔ مستونگ میں کل رات چار دھماکے ہوئے تھے۔ اس سے قبل یہ خبریں ملی تھیں کہ کوئٹہ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے خفیہ ایجنسی کے ایک سب انسپکٹر سمیت تین افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ کوئٹہ کے ایک پولیس آفیسر رحمت اللہ نیازی نے بتایا کہ سیٹلائیٹ ٹاؤن میں قلات سٹریٹ میں ایک دکان پر تین افراد بیٹھے تھے جن پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی ہے جس سے انٹیلیجنس بیورو کے ایک سب انسپکٹر سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس سے پہلے بروری ے علاقے میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے پولیس کے دو اہلکاروں کو ہلاک اور تین کو زخمی کر دیا تھا۔ رحمت اللہ نیازی کے مطابق پولیس نے ان ہنگاموں کے دوران کئی طلبا کو گرفتار کیا ہے۔ یاد رہے نوابزادہ بالاچ مری کی ہلاکت کی خبر کے بعد ہنگامے بلوچستان یونیورسٹی کے سامنے شروع ہوئے تھے اور کئی گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے گئے۔ بروری روڈ پر میڈیکل کالج کے قریب بھی ایک ایمبولنس کو آگ لگا دی گئی تھی۔
گوادر، تربت اور جیونی سے کشیدگی کی اطلاعات ہیں جہاں سے مقامی صحافیوں نے بتایا ہے کہ ایک سرکاری دفتر کو آگ لگائی گئی ہے۔ شام کے وقت دکانیں اور کاروباری مراکز بند کر دیے گئے تھے اور بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے قائدین کی گرفتاریوں کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اس سے پہلے کوئٹہ میں پٹیل روڈ پر نامعلوم افراد نے ایک حجام کی دکان پر دستی بم پھینکا ہے لیکن کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ نوشکی سے مقامی صحافیوں نے بتایا ہے کہ مظاہرین نے الیکشن آفس پر حملہ کیا ہے جہاں پتھراؤ کے ساتھ ساتھ عمارت کو اور ایک سرکاری گاڑی کو آگ لگا دی گئی ہے۔ نوشکی میں جگہ جگہ پولیس اور ایف سی کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ ادھر خضدار سے آمدہ اطلاعات کے مطابق مشتعل طلباء نے ایک بینک اور دکانوں پر پتھراؤ کیا ہے اور پولیس نے مشتعل مظاہرین کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج کیا ہے۔ تربت اور گوادر سے بھی مظاہروں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ | اسی بارے میں کوہلو حملے والوں کا پتہ ہے: جام یوسف23 August, 2005 | پاکستان کوہلو: وزیراعلیٰ کی آمد پر دھماکے22 August, 2005 | پاکستان کوہلو: راکٹ باری کے 9 واقعات 14 August, 2005 | پاکستان کوہلو میں بارودی سرنگ کا دھماکہ27 April, 2005 | پاکستان نوشکی میں دھماکہ، کوہلو میں راکٹ05 February, 2005 | پاکستان سوئی، کوہلو اور گوادر میں چھاؤنیاں27 January, 2005 | پاکستان کوہلومیں پولیس والے ہلاک28 June, 2004 | پاکستان کوہلو: ایف سی کا سپاہی ہلاک17 October, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||