امیدواروں کی ڈگریوں پر اعتراض | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک بھر میں عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور اور مسترد کیے جانے کے خلاف اپیلوں کی سماعت کا سلسلہ بدھ کو بھی جاری رہا۔ پنجاب میں اپیلوں کی سماعت لاہور ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل ٹربیونل کر رہا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس سید زاہد حسین اور مسٹر جسٹس فضل میراں چوہان پر مشتمل الیکشن ٹربیونل نے مسلم لیگ (ق) کے سابق رکن قومی اسمبلی مہدی حسن بھٹی کے کاغذات مسترد ہونےخلاف اپیل خارج کرتے ہوئے ان کو انتخابات کے لیے نااہل قرار دے دیا جبکہ سابق وفاقی وزیر صحت نصیر احمد خان کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف اپیل پر سرسری سماعت کے بعد آٹھ دسمبر کے لیے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ بدھ کو لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل نے حافظ آباد کے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو دو سے مسلم لیگ( ق) کے امیدوار مہدی حسن بھٹی کے کاغذات مسترد ہونے کے خلاف اپیل پر سماعت کی۔ مہدی حسن بھٹی کے خلاف ان کے مدمقابل امیدوار عثمان خان نے یہ اعتراض اٹھایا تھا کہ مہدی حسن بھٹی گریجویٹ نہیں اور ان کی بی اے کی ڈگری جعلی ہے۔ اس لیے وہ انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں۔ ٹربیونل کے روبرو پنجاب یونیورسٹی کے کنٹرولر نے بتایا کہ مہدی حسن بھٹی کے پاس بی اے کی جو ڈگری ہے اس کا یونیورسٹی کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ کنٹرولر نے مزید بتایا کہ مہدی حسن بھٹی جس رول نمبر کے دعویدار ہیں وہ رول نمبر دراصل مہدی حسن شاہ نامی شخص کا ہے جو چار مرتبہ کوشش کرنے کے باوجود بی اے میں پاس نہیں ہو سکا۔ اس پر ٹربیونل نے مہدی حسن بھٹی کی اپیل مسترد کردی۔ تاہم ٹربیونل نے ان کے مقابل امیدوار کی یہ استدعا منظور نہیں کی کہ مہدی حسن بھٹی کے خلاف بی اے کی جعلی ڈگری رکھنے پر مقدمہ درج کیا جائے۔ دوسری جانب سابق وزیر صحت نصیر احمد خان نے اپنے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔ ریٹرننگ آفیسر نے نصیر خان کے مدمقابل امیدوار سمیرا کے اعتزاض پر ان کے کاغذات مسترد کیے تھے۔ نصیر خان کے خلاف بھی یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ ان کی تعلیمی ڈگری جعلی ہے۔ٹربیونل نے سابق وزیر صحت کی اپیل پر آٹھ دسمبر کے لیے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر دیے۔ ادھر پشاور میں پاکستان مسلم لیگ کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر سلیم سیف اللہ اور اُن کے متبادل امیدوار انعام اللہ خان نے مسلم لیگ(ن) سے تعلق رکھنے والے مخالف امیدوار ملک عمران خان کے خلاف صوبائی اسمبلی کی نشست پی ایف پچھتر لکی مروت دو کے لیے منظور کیے گئے کاغذاتِ نامزدگی کے خلاف اپیلیں دائر کر دیں۔ سلیم سیف اللہ اور انعام اللہ خان الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے بنائے گئے دو رکنی الیکشن ٹربیونل کے سامنے بدھ کے روز پیش ہوئے اور ملک عمران کے کاغذاتِ نامزدگی کی منظوری کے خلاف درخواست جمع کرادی ۔ ملک عمران نے گذشتہ انتخابات میں لکی مروت کی نشست پر سلیم سیف اللہ کو شکست دی تھی۔ تاہم بعد میں لمبے عرصے تک کیس عدالت میں چلنے کے نتیجے میں سلیم سیف اللہ ملک عمران کی بی ای ڈگری جعلی ثابت کرنے میں کامیاب ہوئے جس کے بعد ملک عمران کو صوبائی اسمبلی کی رُکنیت سے برطرف کر دیا گیا ۔ اپنی نئی اپیل میں ایک بار پھر سلیم سیف اللہ نے ملک عمران کی تعلیمی اسناد کے اصلی ہونے پر اعتراض کیا ہے ۔ جسٹس سلیم خان اور جسٹس جہانزیب خان رحیم پر مشتمل اپیلیٹ ٹربیونل نے صوبہ سرحد کے ایڈوکیٹ جنرل سمیت الیکشن کمیشن کے متعلقہ افسران اور ملک عمران کو نوٹس جاری کرتے ہوئے باقاعدہ سماعت کے لیے سات دسمبر کی تاریخ مقرر کی ہے ۔ اس کے علاوہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایف باسٹھ پر پاکستان پیپلز پارٹی (شیرپاؤ) کے امیدوار سید آفتاب حیدر شاہ نے، جو پچھلی صوبائی اسمبلی میں پی پی پی (شیرپاؤ) کے پارلیمانی لیڈر مرید کاظم کے بیٹے ہیں ، آزاد امیدوار جاوید اکبر کے کاغذات کی منظوری کے خلاف اپیل کرتے ہوئے تعلیمی اسناد پر اعتراض کیا ہے ۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||