BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 December, 2007, 13:20 GMT 18:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ججز کی بحالی، کل جماعتی کانفرنس

وکلاء پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججز کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی بحالی کے معاملہ پر کل جماعتی کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے اور حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں کے اتحادوں سے مطالبہ کیا ہے کہ چارٹر آف ڈیمانڈز میں ججوں کی بحالی کے نکتہ کو سرفہرست رکھیں۔

جمرات کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے قائم مقام صدر امداد اعوان ، سیکرٹری امین جاوید اور نائب صدر غلام بنی بھٹی نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی بحالی کے معاملہ پر کل جماعتی کانفرنس بلائے گی اور اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں سے رابطہ مکمل ہونے پر اس کانفرنس کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ بار نے حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد اے پی ڈی ایم اور اے آر ڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ چارٹر آف ڈیمانڈز میں ججوں کی بحالی کے معاملے کو سرفہرست رکھا جائے۔ ’اس کے بغیر یہ چارٹر وکلاء برادری کو قبول نہیں ہوگا۔‘

انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے معاملے پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ بار کا وفد پاکستان میں مقیم تمام ممالک کے سفیروں سے ملاقات کر کے ان کو اصل حقائق کے بارے میں بتائے گا۔

اعتزاز احسن کی ملک گیر تحریک
 امین جاوید نے سپریم کورٹ بار کے نظر بند صدر اعتزاز احسن کی جانب سے بار ایسوسی ایشنوں کو لکھی گئی چٹھی کا حوالہ دیا اور کہا کہ اعتزاز احسن آئندہ ماہ جنوری کے آخری ہفتے میں ججوں کی بحالی کے لیے ’جوڈیشل بس‘ کے ذریعے ملک گیر تحریک چلائیں گے۔
سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی برطرفی کی شدید مذمت کی اور واضح کیا کہ اعلیٰ عدلیہ کے کسی بھی جج کو سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کے بغیر ان کے منصب سے ہٹایا نہیں جاسکتا، اس لیے حکومت کی جانب سے ججوں کو ان کے عہدوں سے ہٹانا غیر آئینی ہے۔

پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے سامنے پیش ہونے والے وکلاء کے بارے میں امین جاوید نے کہا کہ سپریم کورٹ بار وکلاء تنظیموں کے فیصلے کے برعکس پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے روبرو پیش ہونے والے وکلاء کے خلاف کارروائی کرے گی اور ان وکلاء کے لائسنس منسوخ کیے جائیں گے۔

انہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والوں ججوں سے رہائش گاہیں خالی کرانے کی مذمت کی اور کہا کہ یہ کارروائی فوری طور پر بند کی جائے ۔ان کا کہنا تھا کہ وکلاء خود ججوں کا تحفظ کریں اور ان سےگھر خالی کرانے کی غیرقانونی کارروائی کی بھر پور مزاحمت کریں۔

امین جاوید نے سپریم کورٹ بار کے نظر بند صدر اعتزاز احسن کی جانب سے بار ایسوسی ایشنوں کو لکھی گئی چٹھی کا حوالہ دیا اور کہا کہ اعتزاز احسن آئندہ ماہ جنوری کے آخری ہفتے میں ججوں کی بحالی کے لیے ’جوڈیشل بس‘ کے ذریعے ملک گیر تحریک چلائیں گے۔

جج(فائل فوٹو)ججوں کا انکار
اعلٰی عدلیہ کے درجنوں ججوں نےحلف نہیں اٹھایا
کراچی میں گرفتار ہونے والے وکیلوکلاء کا احتجاج
ملک بھر سے احتجاج اور ہڑتال کی جھلکیاں
جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود جج کے ایام قید
وہ دس دن بہت تکلیف دہ تھے: جسٹس(ر) طارق
’انکل شکریہ۔۔۔‘’انکل شکریہ۔۔۔‘
افتخار چوہدری کی بیٹی کا ججوں کو خط
احتجاجسندھ احتجاج
سندھ کی تمام عدالتوں کا بائیکاٹ اوراحتجاج
جیلپابندِ سلاسل
وکلاء سے ملاقات کی اجازت، دوائیوں کی نہیں
عاصمہ جہانگیروکلاء پر’ تشدد‘
جیلوں میں بند وکلاء نمائندوں پر تشدد کا الزام
اسی بارے میں
سرحد: صحافیوں کا احتجاج جاری
21 November, 2007 | پاکستان
پی سی او ججوں کا بائیکاٹ
05 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد