’چارٹر آف ڈیمانڈ‘ : پہلا دور مکمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حزب مخالف کے دو بڑے اتحادوں کی جانب سے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے سے پہلے متفقہ ’چارٹر آف ڈیمانڈ‘ مرتب کرنے کے لیے بنائی گئی کمیٹی نے ابتدائی مشاورت مکمل کرلی ہے۔ منگل کو ڈھائی گھنٹے کی مشاورت کے دوران فریقین نے اپنی اپنی جماعتوں کے ترجیحی مطالبات پر مشتمل فہرستوں کا تبادلہ کیا۔ اجلاس کے بعد فریقین نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ بہت جلد متفقہ چارٹر آف ڈیمانڈ تیار کرلیں گے اور ان کے مطابق کمیٹی کا اجلاس بدھ کو بھی ہوگا۔ اجلاس میں شریک پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر صفدر عباسی نے بتایا کہ ’ہم پرامید ہیں کہ جلد ہی چارٹر آف ڈیموکریسی کی طرح چارٹر آف ڈیمانڈ، طے کرلیں گے‘۔ جب ان سے پوچھا کہ پرویز مشرف کے صدارتی انتخاب اور ججوں کی بحالی کے دو نکات پر پیپلز پارٹی کا موقف دیگر جماعتوں سے مختلف کیوں ہے تو انہوں نے کہا کہ ہر جماعت کو اپنی پالیسیوں کے تحت اپنا موقف اختیار کرنے کا حق ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کا موقف اپنی جگہ پر لیکن جب اتحادوں میں کوئی معاملہ زیر غور آتا ہے اور قومی نوعیت کا ہوتا ہے تو اس میں پارٹی موقف سے ہٹ کر بھی باتیں ہوتی ہیں۔ کمیٹی میں اے آر ڈی کی جانب سے رضا ربانی، صفدر عباسی، ملک نوید اور عبدالقدیر شامل ہیں جبکہ اے پی ڈی ایم کی نمائندگی اسحاق ڈار، احسن اقبال، عبدالرحیم مندوخیل اور پروفیسر خورشید کررہے ہیں۔ کمیٹی کے ایک رکن اور مسلم لیگ نواز کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ان کے مطالبات میں سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت اعلیٰ عدالتوں کے تمام برطرف ججوں کی بحالی سرفہرست ہے۔
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف، قاضی حسین احمد، محمود خان اچکزئی، عمران خان سمیت حزب مخالف کے بیشتر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انتخابات میں حکومت دھاندلی کر رہی ہے اور ایسے میں ان کا بائیکاٹ کیا جائے۔ جبکہ اتحاد برائِے بحالی جمہوریت کی سربراہ اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اور ان کے ہم خیال کہتے ہیں کہ حکومت دھاندلی تو کر رہی ہے لیکن اس دھاندلی کو منظر عام پر لانے کے لیے انتخابات میں حصہ لینا چاہیے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر حزب مخالف کی تمام جماعتیں ملک میں جمہوریت اور آئین کی بحالی کے ایک نکتے پر متفق ہوں تو وہ بھی بائیکاٹ کرسکتے ہیں۔ لیکن جمیعت علماء اسلام (ف) کے مولانا فضل الرحمٰن واحد حزب مخالف کے رہنما ہیں جو کہتے ہیں کہ انتخابات کا بائیکاٹ غلط فیصلہ ہوگا اور اس سے جنرل پرویز مشرف مضبوط ہوں گے۔ حزب مخالف بیشتر جماعتیں ججوں کی بحالی کا مطالبہ کر رہی ہیں جبکہ بینظیر بھٹو اور مولانا فضل الرحمٰن عدلیہ کی آزادی کی بات کر رہے ہیں۔ حزب مخالف کی تمام جماعتیں غیر جانبدار الیکشن کمیشن کی از سر نو تشکیل، انتخابی قوانین میں تبدیلی، ایمرجنسی کا خاتمہ، آئین کی بحالی، پرویز مشرف کے صدارتی انتخابات کو غیر آئینی قرار دینے، نگران حکومتوں کو مسترد کرنے سمیت اکثر معاملات پر کم و بیش ایک جیسا ہی موقف ہے۔ | اسی بارے میں بائیکاٹ پرنظرثانی کریں: فضل الرحمان30 November, 2007 | پاکستان نواز اور شہباز پر انتخابی اعتراضات30 November, 2007 | پاکستان نواز شریف، بینظیر ملاقات پیر کو01 December, 2007 | پاکستان ’حتمی بائیکاٹ کا فیصلہ اجلاس میں‘01 December, 2007 | پاکستان میں بنیاد پرست نہیں: نواز شریف02 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||