BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 December, 2007, 18:23 GMT 23:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قاضی، فضل: مختلف بیانات

جب آزاد الیکشن کمیشن نہیں، عدلیہ آزاد نہیں تو انتخابات میں حصہ لینے کی کیا ضرورت ہے: قاضی
متحدہ مجلس ِ عمل کے صدر قاضی حسین احمد اور سیکریٹری جنرل مولانا فضل الرحمان منگل کے روز پشاور میں آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے بٹے ہوئے نظر آئے ۔

اپنی اپنی جماعتوں کے علیحدہ علیحدہ اجلاسوں میں شرکت کے بعد پشاور کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے یا نہ ان میں شمولیت نہ کرنے کے حوالے ایک دوسرے سے اختلافی بیانات دیے ۔

جمیعت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ انتخابات میں حصہ لینے کے بارے میں ان کی جماعت کا فیصلہ اٹل ہے ۔ جبکہ دوسری جانب جماعتِ اسلامی کے سربراہ قاضی حُسین احمد نے کہا ’یہ فراڈ انتخابات ہیں ان میں حصہ نہ لینے کے حوالے سے فیصلہ فائنل ہے‘ ۔

منگل کے روز پشاور میں اپنی جماعت کے عہدیداروں اور آئندہ انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے اجلاس میں شرکت کے بعد مولانا فضل الرحمان نے کہا ’تمام ملک میں ہمارے کارکن انتخابات میں حصہ لینے کے لیے تیاری کریں اور امریکہ نواز دھڑے کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہوجائیں‘ ۔

جبکہ قاضی حسین احمد نے اپنی جماعت کے ورکرز سے المرکزِ اسلامی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ’نہ صرف یہ کہ سوات اور وزیرستان میں آپریشن کرنے کی وجہ سے خود فوج کا مورال گرا ہوا ہے بلکہ ایک ایسے وقت میں جب آزاد الیکشن کمیشن نہیں،
عدلیہ کو تباہ کردیا گیا ہے تو پھر انتخابات میں حصہ لینے کی کیا ضرورت ہے‘ ۔

اُن کا کہنا تھا کہ ملک کی طلباء برادری ، وکلاء ، سول سوسائٹی اور تمام سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ انتخابات میں حصہ نہ لیا جائے ۔

لیکن دوسری جانب اُن کے اتحاد کے سیکریٹری جنرل مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’ انتخابات میں حصہ لینا اس لیے ضروری ہے کیونکہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر اسٹیبلشمنٹ کو ملک میں امریکہ نواز حکومت بٹھانے کا موقع مل جائے گا‘ ۔

انھوں نے کہا کہ جس طرح جنرل ضیا ء الحق نے سیاسی جماعتوں کے انتخابات میں بائیکاٹ کے بعد اپنی پسند کی حکومت بنا لی تھی بلکل ویسے ہی جنرل مشرف بھی کریں گے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دو تہائی اکثریت لینے کے بعد جب میاں نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ کیا گیا تو دو ہزار دو میں ہونے والے انتخابات میں اُن کی جماعت کو گوکہ سترہ ، اٹھارہ نشستیں ہی ملیں قومی اسمبلی میں لیکن اُن کی جماعت کی جو آج حیثیت ہے اُس میں بڑا کردار گذشتہ پانچ سالوں میں اُن کی پارلیمانی پارٹی کا ہے ۔

ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے نواز شریف آپ کو انتخابات کے بائیکاٹ پر کس حد تک راضی کرنےتو مولانا فضل نے جواب یوں دیا۔ ’یہ تو اُن سے پوچھنا چاہیے کہ وہ میری بات سے کس حد متفق ہوئے۔اب تو بات ہی اُلٹی ہوگئی ہے کیونکہ میاں نواز شریف کے کاغذات مسترد ہونے کے بعد اب وہ اس پوزیشن ہی میں نہیں کہ کسی دوسرے سے کہہ سکیں کے انتخابات میں حصہ نہ لیں۔ کیونکہ اب جسے وہ یہ کہیں گے تو دوسرا یہی کہے گا کہ خود رہ گئے ہیں لہٰذا دوسروں کو بھی روکنا چاہتے ہیں‘۔

اسی بارے میں
’نواز الیکشن نہیں لڑ سکتے‘
03 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد