باہمی اختلافات پر قابو پالیں گے:قاضی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جماعت اسلامی کے امیر اور ایم ایم اے کے سربراہ قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ صدارتی انتخاب کے موقع پر سرحد اسمبلی کی تحلیل کے معاملے پر ایم ایم اے میں پیدا ہونے والے اختلافات پر قابو پالیا جائےگا۔ سوموار کو قاضی حسین احمد نے جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوری کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ایم ایم اے میں شامل جماعتیں آئندہ عام انتخابات میں ایک ہی پلیٹ فارم اور ایک ہی منشور کے ساتھ عوام کے سامنے آئیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اختلافات کی وجہ سے ایم ایم اے کی ساکھ پر فرق پڑا ہے لیکن وہ اسے اتحاد کے مستقبل پر اثرانداز نہیں ہونے دیں گے۔ ان کے بقول’ایم ایم اے میں اختلافات کے باوجود اس کی برکتیں اور فوائد زیادہ ہیں، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ اختلافات ختم کریں اور دینی جماعتوں کی صف بندی کو مضبوط کریں‘۔ ایک سوال پر جماعت اسلامی کے امیر نے کہا کہ آل پاکستان ڈیموکریٹک ی موومنٹ ایک مضبوط محاذ ہے اور جلد ہی اس کا اجلاس طلب کر کے آئندہ کی حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ صدارتی انتخاب متنازعہ ہے اور اس کے خلاف جدجہد جاری رہے گی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ عدلیہ سے اس وقت توقع کی جاسکتی ہے جب عوام عدلیہ کی پشت پر کھڑے ہوں۔ ان سے پوچھا گیا کہ وفاقی وزیر شیخ رشید نے بیان دیا ہے اگر عدالت نے صدر مشرف کے خلاف فیصلہ دیا تو ملک میں مارشل لاء آ سکتا ہے تو قاضی حسین احمد کا کہنا تھا کہ ملک میں پہلے ہی مارشل لاء ہے۔ انہوں نے قومی مفاہمتی آرڈیننس پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اربوں ڈالر کے ملزم اور ان کے خلاف مقدمات کو ختم کرنا ایک ظلم ہے۔ | اسی بارے میں استعفوں کا نہیں بتایا گیا تھا 05 October, 2007 | پاکستان استعفے جنرل مشرف کو روک سکیں گے؟03 October, 2007 | پاکستان صدارتی انتخاب: ’ملک و قوم کا وسیع تر مفاد‘06 October, 2007 | پاکستان سپیکرسرحد اسمبلی پر عدم اعتماد 06 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||