استعفوں کا نہیں بتایا گیا تھا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ مجلس عمل کے رہنما مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ جمیعت علماء اسلام اے پی ڈی ایم کے ساتھ اپنی وابستگی برقرار رکھنے یا نہ رکھنے کے حوالے سے مرکزی مجلس شوری سے منظوری لےگی۔ ان کے بقول جمیعت علماء اسلام اس حوالے سے متحدہ مجلس عمل کی سپریم کونسل کے آئندہ اجلاس میں بھی اپنے تحفظات پیش کرے گی۔ یہ بات مولانا فضل الرحمٰن نے جمعہ کو سرحد اسمبلی سے اے پی ڈی ایم میں شامل جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں کے ارکان اسمبلی کے مستعفی ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ سرحد اکرم خان درانی کے ہمراہ پشاور میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ان کی متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد اور مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا کے ساتھ کئی مرتبہ فون پر بات ہوئی تھی تاہم انہوں نے اس دوران اسمبلی سے مستعفی ہونے کے معاملے کا ایک بار بھی ذکر نہیں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان حالات میں جمیعت علماء اسلام کی مرکزی شوریٰ کا ایک اجلاس بلایا جائے گا جس میں اے پی ڈی ایم سے وابستگی برقرار رکھنے یا نہ رکھنے کےحوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔ان کے بقول اس کے علاوہ وہ متحدہ مجلس عمل کی سپریم کونسل کے آئندہ ہونے والے اجلاس میں بھی اپنے تحفظات کا اظہار کریں گے۔ تاہم مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ انکی جماعت اب بھی خود کو اے پی ڈی ایم کی جانب سے سرحد اسمبلی کو تحلیل کرانے کے حوالے سے کیے گئے فیصلے کا پابند سمجھتی ہے اور آٹھ اکتوبر کو وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنانے کے بعد سرحد اسمبلی کو تحلیل کردیا جائے گا۔
ان کا مزید کہناتھا کہ جمیعت علماء اسلام سنیچر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے موقع پر اے پی ڈی ایم کی جانب سے اعلان کردہ احتجاج میں شریک ہوگی، تاہم اے پی ڈی ایم کے ساتھ دیگر مشترکہ سرگرمیاں مرکزی شوریٰ کے اجلاس ہونے تک معطل رہیں گی۔ صدر جنرل پرویز مشرف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان ’ قومی مصالحت‘ کے تحت ہونے والی مفاہمت کے بارے میں مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ یہ ’قومی‘ نہیں بلکہ ’افراد کے درمیان‘ مصالحت ہے، جو ان کے بقول امریکہ کی دباؤ کے تحت ہو رہا ہے۔ اس موقع پر صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی نے دعوی کیا کہ آٹھ اکتوبر کو عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنانے کے لیے ان کے پاس اکثریت موجود ہے۔انہوں نے جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سپیکر سرحد اسمبلی بخت جہاں خان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اجلاس کے پہلے ہی روز مولانا فضل الرحمٰن اور سراج الحق کی جانب سے کی گئی درخواست کو رد کرتے ہوئے اسمبلی کے قواعد اور ضوابط کو معطل نہیں کیا تاکہ وہ ایوان سے اعتماد کا ووٹ لے لیتے۔ دریں اثناء سرحد اسمبلی سیکریٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سپیکر نےجماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے چھتیس ارکانِ اسمبلی کے استعفے منظور کرلیے ہیں۔ بیان کے مطابق سپیکر نے سنیچر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے موقع پرصبح دس بجے صوبائی اسمبلی کا اجلاس بھی طلب کرلیا ہے۔ جمعہ کو مستعفی ہونے والے اراکینِ اسمبلی میں جماعتِ اسلامی کے چوبیس، عوامی نیشنل پارٹی کے آٹھ اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے چار ارکان شامل ہیں۔ |
اسی بارے میں سرحد اسمبلی کے 36 ارکان مستعفی05 October, 2007 | پاکستان استعفے جنرل مشرف کو روک سکیں گے؟03 October, 2007 | پاکستان 164 ارکان نے استعفے دے دیے02 October, 2007 | پاکستان سرحد استعفوں کا فیصلہ مؤخر01 October, 2007 | پاکستان ’فضل ساز باز نہیں کر سکتے‘01 October, 2007 | پاکستان پنجاب 46،سندھ 7، بلوچستان 2502 October, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||