آٹھ جنوری: انتخابی سرگرمیاں غائب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹھ جنوری کے عام انتخابات میں ایک ماہ باقی بچا ہے لیکن وہ انتخابی ماحول اور سرگرمیاں کہیں نظر نہیں آرہیں جو ایس مواقع پر ماضی میں دیکھنے کو ملتی رہی ہیں۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ صدر مشرف کی حمایت یافتہ جماعتوں کی یکطرفہ انتخابی مہم زوروں پر ہے اور نگراں وزیراعظم محمد میاں سومرو سے لے کر اٹک کے ضلع ناظم طاہر صادق تک، وزراء، مشیر، ناظمین، پنجاب کے چیف سیکریٹری، انٹیلیجنس بیورو کے سربراہ اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سمیت کئی بیوروکریٹس کے عزیز و اقارب بھی انتخابات لڑ رہے ہیں۔ اپوزیشن کی تمام جماعتیں نگراں وزیراعظم سے لے کر انٹیلیجنس بیورو کے سربراہ تک سب پر دھاندلی کا الزام لگا رہی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ملک بھر میں ناظمین اپنے عزیزوں کو جِتوانے کے لیے اپنے اختیارات، پیسہ اور پولیس کا کھلا استعمال کر رہے ہیں۔ ایسے میں الیکشن کمیشن نے تاحال کوئی ایکشن تو نہیں لیا ہے لیکن شیڈول کے مطابق انتحابات کرانے کی تیاریاں ضرور کر رہا ہے۔ نگراں وزیر اطلاعات نثار میمن کہتے ہیں کہ سب ٹھیک ہے، حکومت شفاف انتخابات کو یقینی بنا رہی ہے۔ وہ انتخابات ملتوی نہ ہونے کے آئے روز بیان دے رہے ہیں۔ لیکن وزیر کی یقین دہانیوں کے باوجود بھی حزب مخالف کے سیاسی حلقوں میں یہ تاثر تیزی سے پھیل رہا ہے کہ عام انتخابات آٹھ جنوری کو شاید نہیں ہوں گے۔ حزب مخالف کے بعض امیدوار کہتے ہیں کہ انہیں خدشہ ہے کہ انتخابات ملتوی ہوں گے اور اس لیے وہ پیسہ خرچ کرنے میں بھی احتیاط کر رہے ہیں۔
دوسری جانب بینظیر بھٹو کا عین وقت پر بچوں سے ملنے دبئی چلے جانا، برطرف کردہ ججز اور اعتزاز احسن سمیت کئی وکلاء کا قید ہونا اور مسلم لیگ (ن) کے میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کو باہر کردینا، کیا یہ سب کچھ ہضم ہوجائے گا؟ ایسا بظاہر بہت مشکل نظر آتا ہے کیونکہ اب تو کئی لوگ کہتے ہیں کہ صدر پرویز مشرف کے اختیارات کے پیٹ کا معدہ بھی کمزور پڑ چکا ہے۔ شریف برادران کا اتنی آسانی سے انتخابی عمل سے باہر ہونے پر سیاسی حلقوں میں بڑی حیرت ظاہر کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس کا سو فیصد فائدہ مسلم لیگ (ق) کو ہوگا۔ میاں نواز شریف نے انتخابات میں حصہ لینے یا بائیکاٹ کا فیصلہ کرنے کے لیے نو دسمبر کو لاہور میں اجلاس بلایا ہے۔ اگر اے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے بائیکاٹ کا فیصلہ ہوا تو ظاہر ہے کہ سات سالہ جلاوطنی کے دوران آرام کے بعد تازہ دم نواز شریف گھر تو بیٹھنے سے رہے اور ظاہر ہے کہ وہ احتجاج کریں گے۔ کچھ سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ نواز شریف نے اگر دما دم مست قلندر کیا تو پھر آرمی ہاؤس میں رہتے ہوئے بھی صدر پرویز مشرف کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ کیونکہ مسلم لیگ نواز اور جماعت اسلامی کو پتہ ہے کہ ان کے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے سے ان کے سیاسی حلقے گجرات کے چودھریوں اور الطاف حسین کے گڑھ بن جائیں گے، جوکہ وہ کبھی بھی نہیں چاہیں گے اور ظاہر ہے کہ وہ اپنی پوری سیاسی قوت کے ساتھ سڑکوں پر آئیں گے۔ ایسے میں بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پھر جہاں انتخابات کا انعقاد مشکل ہوسکتا ہے وہاں صدر پرویز مشرف کا پانچ سال صدر رہنے کا خواب بھی ادھورا ہوسکتا ہے۔ کیونکہ کچھ سیاسی مبصر تو پہلے ہی صدر پرویز مشرف کی جانب سے ترکی کے صدر کو پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں کے پاس اور سعودی سفیر کو پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے چیف جسٹس افتخار چودھری کے پاس بھیجنے اور آرمی ہاؤس خالی نہ کرنے کے اقدامات کو ان کی بڑی سیاسی کمزوری سے تعبیر کر رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں 13,490 کاغذاتِ نامزدگی وصول30 November, 2007 | پاکستان انتخاب لڑنے کی دوڑ میں بریکیں04 December, 2007 | پاکستان گیلانی کے کاغذات، منظوری پر اعترض07 December, 2007 | پاکستان شریف برادران کی نظرثانی کی اپیل07 December, 2007 | پاکستان الیکشن کمیشن کا مشورہ مسترد08 December, 2007 | پاکستان بی بی، ارباب کے خلاف درخواستیں07 December, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||