BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 December, 2007, 12:53 GMT 17:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بی بی، ارباب کے خلاف درخواستیں

بینظیر بھٹو
بینظیر بھٹو نے اپنے خلاف مقدموں کے سلسلےمیں کسی عدالت سے رجوع نہیں کیا اس لیے وہ اب بھی قومی احتساب بیورو کے ریکارڈ کے مطابق مفرور ہیں: مخالف امیدوار
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو اور سابق وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کے عام انتخابات کیلیے کاغذات نامزدگی منظور کیے جانے کے خلاف الیکشن ٹربیونل میں درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔

سندھ میں نامزدگی فارم منظور اور مسترد ہونے کے خلاف سماعت کے لیے دو اپیلٹ ٹربیونل بنائے گئے تھے، جن میں دو روز کے اندر تراسی اپیلیں دائر کی گئی ہیں۔ جمعہ کو اپیل دائر کرنے کا آخری دن تھا، یہ ٹربیونل چودہ دسمبر تک ان اپیلوں کے فیصلے کریں گے۔

بینظیر بھٹو لاڑکانہ سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے دو سو چار سے امیدوار ہیں، ان کے مدمقابل مسلم لیگ قائد اعظم کے امیدوار بابو سرور سیال نے جمعہ کو ان کے نامزدگی فارم کو چیلنج کیا۔

اپنے اعتراضات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا ملکی قانون کے تحت کوئی بھی سزا یافتہ یا مفرور شخص الیکشن نہیں لڑسکتا ہے جبکہ بینظیر بھٹو قومی احتساب بیورو کے تین ریفرنسوں میں سزا یافتہ ہیں۔

الیکشن کمیشن سے شکایت
 سابق وزیراعلیٰ حلقے میں سرکاری وسائل کا استعمال کر رہے ہیں، ضلع ناظم اور نگران صوبائی وزیر ان کے رشتیدار ہیں، وہ سرکاری ملازموں کی بدلی کروا رہے ہیں اور لوگوں میں ملازمتوں کے آرڈر تقسیم کر رہے ہیں جن کے میرے پاس شواہد اور ثبوت موجود ہیں مگر الیکشن کمیشن اس کا نوٹس نہیں لے رہا۔
محمد خان لنڈ
انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو کسی ’ڈیل‘ یا ’ڈھیل‘ کے تحت ملک آگئی ہیں مگر انہوں نے کسی عدالت میں ان مقدمات کا سامنا نہیں کیا جس وجہ سے وہ ابھی بھی قومی احتساب بیورو کے ریکارڈ کے مطابق مفرور ہیں۔

بابو سرور سیال کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے فارم اسی نوعیت کے الزامات کے تحت رد کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ملک میں دو قانون کیسے ہوسکتے ہیں۔

لاڑکانہ ضلع کے چار میں سے تین تحصیل ناظمین کا تعلق مسلم لیگ قائد اعظم سے ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے مسلم لیگ ق کے امیدوار پر سرکاری وسائل کے استعال کا الزام عائد کیا جارہا ہے مگر بابو سرور سیال کا کہنا تھا کہ ان الزامات میں صداقت نہیں ہے ۔

تھرپارکر کی قومی اور صوبائی نشست پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار محمد خان لُنڈ نے ارباب غلام رحیم کے نامزدگی فارم کو چیلینج کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ ارباب غلام رحیم کی ڈگری جعلی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ارباب غلام رحیم کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ بھی زیر سماعت ہے اور انہوں نے جو اثاثے ظاہر کیے ہیں ان میں بھی غلط بیانی کی گئی ہے۔

محمد خان لُنڈ کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ حلقے میں سرکاری وسائل کا استعمال کر رہے ہیں، ضلع ناظم اور نگران صوبائی وزیر ان کے رشتیدار ہیں وہ سرکاری ملازموں کے تبادلے کروا رہے ہیں اور لوگوں میں ملازمتوں کے آرڈر تقسیم کر رہے ہیں اور یہ کہ ان کے پاس شواہد اور ثبوت موجود ہیں مگر الیکشن کمیشن اس کا نوٹس نہیں لے رہا۔

اسی بارے میں
’نواز الیکشن نہیں لڑ سکتے‘
03 December, 2007 | پاکستان
کراچی: اڑتیس کاغذات مسترد
04 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد