نااہلیت کا فیصلہ سیاسی ہے: شہباز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ مسلم لیگ نواز کے صدر اورسابق وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ان کے کاغذات سیاسی بنیادوں پر مسترد کیے گئے ہیں۔ انہوں نے لاہور میں ماڈل ٹاؤن میں اپنی رہائشگاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے کاغذات نامزدگی کا مسترد ہونا اس ’دھاندلی کا حصہ ہے جو انتخابات سے پہلے کی جائے گی‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر اپیل دائر کرنے کے خلاف ہیں لیکن اس کے بارے میں حتمی فیصلہ ان کی جماعت کرے گی۔ اس سے قبل سنیچر کی صبح لاہور کے ایک ریٹرننگ افسر نے قومی اسمبلی کے ایک اور صوبائی اسمبلی کے دو حلقوں سے ان کاغذات نامزدگی مسترد کردیے تھے۔ میاں شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی پر مخالف امیدوار طارق بانڈے، ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے ایک نوجوان کے والد اور اسلام آباد کے ایک شہری شاہد اورکزئی نے الگ الگ اعتراضات دائر کیے تھے۔ سنیچر کو ریٹرننگ افسر کے روبرو چاروں فریقوں کے وکلاء پیش ہوئے اور بحث کی۔شہباز شریف کی طرف سے خواجہ حارث ایڈووکیٹ اور امتیاز کیفی ایڈووکیٹ، مخالف امیدوارطارق بانڈے کی جانب سے بیرسٹر نذیر احمد شامی اور متوفی نوجوان کے والد کی جانب سے آفتاب احمد باجوہ ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ اعتراضات میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف کے خلاف تھانہ سبزہ زار میں پانچ نوجوانوں کے قتل کا مقدمہ درج ہے۔یہ نوجوان ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوئے تھے اور ہلاک ہونے والے ایک نوجوان کے والد کا کہنا ہے کہ یہ مقابلہ اس وقت کے وزیر اعلی شہباز شریف کے کہنے پر کیا گیا تھا۔ شہباز شریف کے خلاف پیش ہونے والے وکیل آفتاب احمد باجوہ ایڈووکیٹ کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت سے ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری ہیں۔ شہباز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل میں کہا کہ کسی شخص کے وارنٹ جاری ہونے یا محض ایف آئی آر درج ہونے کی بنیاد پر انتخابات لڑنے سے نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا۔
دوسرا اعتراض یہ کیا گیا کہ انہوں نے چار کمپنیوں کے قرضے واپس نہیں کیے اور سنہ دو ہزار دو کے الیکشن ٹریبونل نے بھی انہیں نادہندہ قرار دیا تھا۔ شہباز شریف کے وکلاء نے کہا کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی گئی تھی، اس کے علاوہ شہباز شریف محض ضمانتی ہیں اور جب کمپنیوں اور بنکوں کے درمیان تصفیہ ہوگیا تھا تو پھر ضمانتی کی کوئی ذمہ داری نہیں رہتی۔ شاہد اورکزئی کا اعتراض تھا کہ شہباز شریف سنہ انیس سو ننانوے میں سپریم کورٹ پر حملہ میں ملوث ہیں اور ان کا نام عدالت میں داخل کرائی گئی ایک پولیس رپورٹ میں بھی آیا ہے۔اس کے جواب میں شہباز شریف کے وکیلوں نے کہا کہ ایسی کوئی رپورٹ یا اس کی نقل اعتراض کے ہمراہ نہیں ہے اور محض مفروضے کی بنیاد پر اعتراض نہیں بنتا۔ امتیاز کیفی ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ فیصلہ قانونی تقاضوں پر پورا نہیں اترتا اور یہ سرکاری پالیسی کا حصہ ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کئی امیدواروں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج ہیں اور متعدد کے وارنٹ بھی جاری ہیں لیکن کسی کے کاغذات مسترد نہیں کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ میاں نواز شریف کے کاغذات پر بھی اعتراض لگائے گئے ہیں اور اس کی حتمی سماعت اب تین دسمبر کو ہونی ہے۔ مسلم لیگ نواز اور اے پی ڈی ایم کی دیگر جماعتوں نے صدر مشرف کو الٹی میٹم دے رکھا ہے کہ اگر عدلیہ کی دونومبر سے پہلی والی پوزیشن بحال نہ ہوئی تو وہ انتخابات کا بائیکاٹ کردیں گے۔اے پی ڈی ایم کے رہنما اس سلسلے میں دیگر جماعتوں سے بھی رابطے کر رہے ہیں۔ دریں اثناء سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نظر بند صدر اعتزاز احسن کے قومی اسمبلی کے لیے کاغذات سنیچر کو منظور کرلیے گئے۔ |
اسی بارے میں نواز اور شہباز پر انتخابی اعتراضات30 November, 2007 | پاکستان شہباز کی گرفتاری کا عدالتی حکم07 September, 2007 | پاکستان الیکشن کا بائیکاٹ: نواز شریف29 November, 2007 | پاکستان بائیکاٹ کا آپشن کھلا ہے: بینظیر30 November, 2007 | پاکستان بائیکاٹ پرنظرثانی کریں: فضل الرحمان30 November, 2007 | پاکستان کاغذات کی جانچ پڑتال شروع27 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||