قومی انتخابات کے ’بلدیاتی‘ امیدوار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں انتخابی مہم کے آغاز کے ساتھ ہی بلدیاتی امیدواروں کے معطل کرنے اور ضلعی ناظمین کو انتخابی عمل میں مداخلت سے روکنے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز بلدیاتی اداروں کی معطلی کو اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ میں ایک متفقہ مطالبے کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔ پنجاب کے کئی ضلعوں میں امیدواروں نے اس سلسلے میں صوبائی الیکشن کمشن سے رابطہ کر کے شکایات بھی درج کرائی ہیں۔ وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر حزب اختلاف کی جماعتیں بلدیاتی اداروں سے اتنی عاجز دکھائی دیتی ہیں؟ ان شکایات میں کوئی صداقت بھی ہے یا یہ رواتی سیاست کی ایک حصہ ہیں؟ اگر آپ غور کریں تو بعض معاملات میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی شکایات خاصی وزنی دکھائی دیتی ہیں کیونکہ کئی علاقوں میں ضلعی ناظمین کے قریبی رشتہ دار قومی اور صوبائی نشسوں پر امیدوار ہیں۔ مثال کے طور پر اٹک کو ہی لیجئے، ضلعی ناظم میجر (ریٹائرڈ) طاہر صادق کے داماد وسیم گلزار قومی اسمبلی کے حلقہ این اے انچاس سے امیدوار ہیں جبکہ ان کی صاحبزادی ایمن وسیم حلقہ این اے ستاون سے آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ ایمن وسیم دو ہزار دو کے انتخابات میں حلقہ این اے انچاس سے رکن اسمبلی منتخب ہوئی تھی اور بعد میں اسی نشست کو خالی کر کے ضمنی انتخاب میں شوکت عزیز کو قومی اسمبلی میں لایا گیا تھا۔
قریبی ضلع چکوال میں ضلع ناظم سردار غلام عباس نے اپنے بھائی سردار نواب خان کو قومی اسمبلی کی ایک نشست پر امیدوار کھڑا کیا ہے۔ جہلم میں چودھری فرخ الطاف ضلع ناظم ہیں جبکہ ان کے چچا چودھری شہباز خان قومی اسمبلی کی دو نشستوں پر مسلم لیگ کے امیدوار ہیں۔ سرگودھا میں انعام الحق پراچہ ضلع ناظم ہیں جبکہ ان کے بھتیجے ہارون پراچہ قومی اسمبلی کی ایک نشست پر مسلم لیگ قائدِ اعظم کے امیدوار ہیں۔ ضلع خوشاب میں غلام محمد ٹوانہ ناظم ہیں جبکہ انہیں کے خاندان کے سلطان محمود ٹوانہ قومی اسمبلی کے امیدوار ہیں۔ کچھ ایسی ہی صورت حال فیصل آباد میں بھی ہے جہاں ضلع ناظم کے عام انتخابات سے براہِ راست مفادات وابستہ ہیں کیونکہ ان کے قریبی رشتہ دار الیکشن لڑ رہے ہیں۔ جھنگ میں صاحبزادہ حمید سلطان ضلع ناظم ہیں جبکہ صاحبزادہ محبوب سلطان حلقہ این اے اکانوے سے قومی اسمبلی کے امیدوار ہیں۔ میانوالی میں عبیداللہ شادی خیل ضلع ناظم میں جبکہ ان کے قریبی رشتہ دار امانت اللہ خان شادی خیل قومی اسمبلی کے حلقے این اے اکہتر سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ حافظ آباد مبشر عباس بھٹی ضلع ناظم ہیں جبکہ بھٹی خاندان کے دو افراد مہدی حسن بھٹی اور لیاقت بھٹی حافظ آباد کے دو حلقوں سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑ رہے ہیں۔ گوجرانوالہ میں فیاض چٹھہ ضلع ناظم ہیں جبکہ ان کے والد حامد ناصر چٹھہ قومی اسمبلی کا الیکشن لڑ رہے ہیں۔ خانیوال میں احمد یار ہراج ضلع ناظم ہیں جبکہ ہراج خاندان کے دو افراد رضا ہراج اور حامد یار ہراج قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ یہ سلسلہ صرف پنجاب تک ہی محدود نہیں ہے۔ سندھ کے ضلع جیکب آباد میں نگران وزیر اعظم محمد میاں سومرو کی والدہ سعیدہ سومرو ضلع ناظم ہیں جبکہ ان کی بہن ملیحہ ملک اور بھانجا فہد ملک انتخابی میدان میں ہیں۔ صوبہ سرحد کے ضلع مانسہرہ میں سردار محمد یوسف ضلع ناظم ہیں جبکہ ان کے صاحبزادے شاہجہان یوسف قومی اسمبلی کے امیدوار ہیں۔ دو سری طرف بنوں کے اعظم خان درانی ہیں اور ان کے چچا زاد بھائی اکرم خان درانی قومی اسمبلی کا الیکشن لڑ رہے ہیں۔ | اسی بارے میں 13,490 کاغذاتِ نامزدگی وصول30 November, 2007 | پاکستان انتخاب لڑنے کی دوڑ میں بریکیں04 December, 2007 | پاکستان گیلانی کے کاغذات، منظوری پر اعترض07 December, 2007 | پاکستان شریف برادران کی نظرثانی کی اپیل07 December, 2007 | پاکستان الیکشن کمیشن کا مشورہ مسترد08 December, 2007 | پاکستان بی بی، ارباب کے خلاف درخواستیں07 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||