BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 December, 2007, 00:17 GMT 05:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الیکشن کمیشن کا مشورہ مسترد

نواز شریف
’پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے سامنے پیش نہیں ہونگے‘
مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نواز شریف اور شہباز شریف نے چیف الیکشن کمشنر کے اس مشورہ کو مسترد کر دیا ہے کہ کاغذات نامزدگی خارج ہونے کے خلاف انہیں متعلقہ ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل سے رجوع کرنا چاہیے۔

مسلم لیگ (ن) کے سربراہ شہباز شریف نے انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم کے لیے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ وہ ان ججوں کے سامنے پیش نہیں ہونگے جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ہے۔

نواز شریف اور شہباز شریف نے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے پر چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ قاضی فاروق کو نظرثانی کی درخواست دی تھی۔ جس میں کہا گیا کہ ان کے کاغذات نامزدگی بلاجواز مسترد کیے گئے ہیں، حالانکہ سنہ دو ہزار دو میں ان کے کاغذات منظور کیے گئے تھے۔

عدلیہ کی بحالی پر اختلاف
 اے پی ڈی ایم اور اے آر ڈی کی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان عدلیہ کی بحالی کے معاملے پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ ہم انتخابات سے پہلے عدلیہ کی بحالی چاہتے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی اسے آئندہ پارلیمان پر چھوڑنا چاہتی ہے
چوہدری نثار علی خان

شہباز شریف نے پریس کانفرنس میں کہا کہ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کو کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے حوالے جو خط لکھا تھا اس کا الیکشن کمشنر کی جانب سے جواب موصول ہوگیا ہے، جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ ہائیکورٹ کے ججوں پر مشتمل الیکشن ٹربیونل کےسامنے پیش ہوں۔

شہباز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ اور اس کے قائد نواز شریف کا اصولی فیصلہ ہے کہ کسی بھی صورت پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے سامنے پیش نہیں ہونگے۔

ایک سوال پر مسلم لیگ (ن) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا تھا اس لیے ان کوخط لکھا گیا ہے۔

پریس کانفرنس میں موجود مسلم لیگ (ن) کے رہنماء چودھری نثار علی خان نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ اے پی ڈی ایم کا اجلاس نو دسمبر کو لاہور میں طلب کر لیا گیا ہے جس میں انتخابات کے بائیکاٹ اور انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

یورپی یونین کے ممالک سے تعلق رکھنے والے سفارتکار جمعہ کو نواز شریف سے ملے

ان کا کہنا تھا کہ اے پی ڈی ایم اور اے آر ڈی کی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان عدلیہ کی بحالی کے معاملے پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ ان کے مطابق وہ انتخابات سے پہلے عدلیہ کی بحالی چاہتے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی اسے آئندہ پارلیمان پر چھوڑنا چاہتی ہے۔

چودھری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے پر آٹھ جنوری کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا جائے جبکہ پیپلز پارٹی بائیکاٹ کی بجائے نو جنوری کو احتجاجی تحریک چلانے کی تجویز پیش کر رہی ہے۔

معزول جسٹس خواجہ محمد شریف’وکلاء کی قربانی‘
’سیاسی جماعتیں خدا کے لیے وکلاء کا ساتھ دیں‘
نواز شریف اور بینظیر بھٹواےپی ڈی ایم اپرہینڈ
انتخابات میں حصہ لینے کی دوڑ میں بریکیں
نواز شریف کی واپسینواز شریف کی واپسی
نواز شریف کے استقبالیہ جلوس کی جھلکیاں
نواز شریفنواز شریف کی واپسی
ڈیل نہیں تو رویوں میں تبدیلی کیسے آئی؟
نوازملنے کا ارادہ نہیں
جنرل مشرف سے ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں:نواز
اسی بارے میں
’نواز الیکشن نہیں لڑ سکتے‘
03 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد