الیکشن کمیشن کا مشورہ مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نواز شریف اور شہباز شریف نے چیف الیکشن کمشنر کے اس مشورہ کو مسترد کر دیا ہے کہ کاغذات نامزدگی خارج ہونے کے خلاف انہیں متعلقہ ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل سے رجوع کرنا چاہیے۔ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ شہباز شریف نے انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم کے لیے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ وہ ان ججوں کے سامنے پیش نہیں ہونگے جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ہے۔ نواز شریف اور شہباز شریف نے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے پر چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ قاضی فاروق کو نظرثانی کی درخواست دی تھی۔ جس میں کہا گیا کہ ان کے کاغذات نامزدگی بلاجواز مسترد کیے گئے ہیں، حالانکہ سنہ دو ہزار دو میں ان کے کاغذات منظور کیے گئے تھے۔
شہباز شریف نے پریس کانفرنس میں کہا کہ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کو کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے حوالے جو خط لکھا تھا اس کا الیکشن کمشنر کی جانب سے جواب موصول ہوگیا ہے، جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ ہائیکورٹ کے ججوں پر مشتمل الیکشن ٹربیونل کےسامنے پیش ہوں۔ شہباز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ اور اس کے قائد نواز شریف کا اصولی فیصلہ ہے کہ کسی بھی صورت پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے سامنے پیش نہیں ہونگے۔ ایک سوال پر مسلم لیگ (ن) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا تھا اس لیے ان کوخط لکھا گیا ہے۔ پریس کانفرنس میں موجود مسلم لیگ (ن) کے رہنماء چودھری نثار علی خان نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ اے پی ڈی ایم کا اجلاس نو دسمبر کو لاہور میں طلب کر لیا گیا ہے جس میں انتخابات کے بائیکاٹ اور انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اے پی ڈی ایم اور اے آر ڈی کی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان عدلیہ کی بحالی کے معاملے پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ ان کے مطابق وہ انتخابات سے پہلے عدلیہ کی بحالی چاہتے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی اسے آئندہ پارلیمان پر چھوڑنا چاہتی ہے۔ چودھری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے پر آٹھ جنوری کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا جائے جبکہ پیپلز پارٹی بائیکاٹ کی بجائے نو جنوری کو احتجاجی تحریک چلانے کی تجویز پیش کر رہی ہے۔ |
اسی بارے میں شریف برادران کی نظرثانی کی اپیل07 December, 2007 | پاکستان ’جسٹس افتخار سے نہیں مل سکتے‘06 December, 2007 | پاکستان ’نواز الیکشن نہیں لڑ سکتے‘03 December, 2007 | پاکستان ’شفاف الیکشن وگرنہ بائیکاٹ‘03 December, 2007 | پاکستان نااہلیت کا فیصلہ سیاسی ہے: شہباز01 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||