کیا ایم ایم اے کا خاتمہ قریب ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل میں عام انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کے معاملے پر شدید اختلافات کے سامنے آنے کے بعد ایک مرتبہ پھر اس اتحاد کے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ جماعت اسلامی اور جمیعت علمائے اسلام (ف) نے انتخابی کمیشن سے اب الگ الگ انتخابی نشانات کے لیے درخواستیں بھی دے دی ہیں۔ کیا یہ اس اتحاد کے اختتام کے اشارے ہیں؟ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے قیام کے بعد یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ یہ اتحاد شدید اختلافات سے دوچار ہوا ہو۔ اس سے قبل اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے معملے پر بھی جماعت اسلامی اور جمیعت علمائے اسلام کے درمیان شدید اختلافات سامنے آچکے ہیں۔ اُس وقت اگر اختلاف رائے اسمبلیاں چھوڑنے پر تھا تو آج اسمبلیوں میں جانے پر ہے۔ لیکن اس مرتبہ اختلاف کچھ زیادہ دکھائی دے رہا ہے۔ اتحاد کی دونوں بڑی جماعتوں نے ایک دوسرے سے منہ پھیرا ہوا ہے اور فی الحال صلاح کا واحد راستہ ’اے پی ڈی ایم‘ کا چارٹر آف ڈیمانڈ ہے۔ اس پر اگر مولانا فضل الرحمان رضامند ہوتے ہیں تو پھر مشترکہ موقف کی امید پیدا ہو سکتی ہے ورنہ دونوں کے راستے مختلف دکھائی دے رہے ہیں۔
اختلاف کا ایک بڑا ثبوت انتخابی کمیشن کو دونوں کی جانب سے الگ الگ انتخابی نشانات کے لیے درخواستیں دینا ہے۔ جمیعت نے گزشتہ انتخابات میں ایم ایم اے کے نشان ’ کتاب‘ کی جبکہ جماعت اسلامی نے’چھتری‘ کی مانگ کی ہے۔ لیکن کس کو کیا ملتا ہے اس کا حتمی فیصلہ نو دسمبر کو اسلام آباد میں انتخابی کمیشن ہی کرے گا۔ اس اجلاس میں شرکت کے لیے کمیشن نے فریقین کو طلب کیا ہے۔ راولپنڈی میں بدھ کو پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے، مولانا فضل الرحمان نے واضع کیا کہ اگر دیگر اتحادی جماعتیں بائیکاٹ کرتی ہیں تو وہ ایم ایم اے کے نام اور نشان کے ساتھ انتخابی میدان میں اتریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو جماعت انتخابات کا بائیکاٹ کرے گی وہ ایم ایم اے سے الگ تصور ہوگی اور ان کی جماعت ان حلقوں سے اپنے امیدوار کھڑے کرے گی۔ زمینی حقائق کو سمجھنے کی التجا کرتے ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کبھی بھی انتخابات سازگار حالات میں نہیں ہوئے لہذا ان کی امید کرنا عقل مندی نہیں۔ دوسری جانب جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ جو اتحادی انتخابات میں حصہ لے گا وہ اتحاد چھوڑ کر چلا جائے۔ اس کا مزید کہنا ہے کہ آزاد عدلیہ اور سازگار ماحول میں صاف و شفاف انتخابات ممکن نہیں لہذٰا ان میں حصہ لینا بےکار ہے۔ پاکستانی سیاست میں روایت رہی ہے کہ حلیف ہمشہ ساتھی اور حریف ہمیشہ دشمن نہیں رہتے۔ دونوں جماعتیں اتحاد کو برقرار رکھنے کی اہمیت سے بھی واقف ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ سنہ دو ہزار دو کے عام انتخابات میں ان کی حیران کن کارکردگی کی جہاں ایک وجہ امریکہ مخالف جذبات تھے تو دوسری جانب ان کا اکٹھا ہونا بھی اہم تھا۔ دونوں فریق کہتے ہیں کہ اس اتحاد کو بچانے کی وہ ہر ممکن کوشش کریں گے لیکن فی الحال یہ کوششیں زیادہ کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دے رہیں۔ | اسی بارے میں بائیکاٹ پرنظرثانی کریں: فضل الرحمان30 November, 2007 | پاکستان ’حتمی بائیکاٹ کا فیصلہ اجلاس میں‘01 December, 2007 | پاکستان ’فوج کے تحت انتخاب ڈرامہ بازی‘ 02 December, 2007 | پاکستان انتخاب لڑنے کی دوڑ میں بریکیں04 December, 2007 | پاکستان ’چارٹر آف ڈیمانڈ‘ : پہلا دور مکمل04 December, 2007 | پاکستان قاضی، فضل: مختلف بیانات04 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||