BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 December, 2007, 17:25 GMT 22:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابی مہم ابھی تیز نہیں

انتخابات کے بائیکاٹ پر سیاسی جماعتوں میں اتفاق نہیں ہو سکا
ملک میں عام انتخابات میں صرف چند ہفتے باقی رہ گئے ہیں لیکن اب تک جس شے کی شدت سے کمی محسوس کی جارہی ہے وہ ہے انتخابی ماحول، جو کچھ حد تک پنجاب کے علاوہ ابھی گرم نہیں ہوپایا ہے۔

انتخابات سے پہلے کی فضاء سے لوگوں کے ووٹ ڈالنے کے ممکنہ رجحان کا اندازہ ہوتا ہے۔
پنجاب

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق پنجاب کے تین بڑے سیاسی حریفوں یعنی پیپلز پارٹی مسلم لیگ قاف اور نون میں سے ایک یعنی مسلم لیگ قاف انتخابی میدان میں خم ٹھونک کر اتر چکی ہے اور لاہور سمیت مختلف شہروں میں اس کے امیدواروں کے سبز ہلالی پرچم اور سائیکل کے نشان والے بینر نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔

اس کی امیدواروں نے اپنی اپنی تصویروں والے پوسٹر بھی شہر کی دیواروں پر چسپاں کرنے شروع کردیے ہیں اور چھوٹی موٹی کارنر میٹنگز کا آغاز ہوچکا ہے لیکن چونکہ مخالفین ابھی میدان میں نہیں اترے اس لیے روایتی گہما گہمی کا فقدان ہے۔

پنجاب کی سیاست کی ایک بڑی حقیقت مسلم لیگ نواز ہے اور وہ ابھی تک اپنے امیدواروں کا حتمی چناؤ تک نہیں کرسکی ہے۔

پارٹی ٹکٹ کے امیدوار اور ان کے سینکڑوں حامی نواز لیگ کے دفتر کے اندر اور باہر موجود نظر آئے۔

کہیں کہیں انتخابی سرگرمی نظر آرہی ہے

مسلم لیگ نون کے پارلیمانی بورڈ کے رکن سمیع اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پیپلز پارٹی کے علاوہ اے پی ڈی ایم کی جتنی بھی جماعتیں الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں ان سب سے انتخابی اتحاد اور سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا ایک دو روز میں ان کے امیدواروں فائنل ہوجائیں گے جس کے بعد پورے زور شور سے مسلم لیگ نون کی انتخابی مہم شروع کردی جائے گی۔

سندھ

ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بھی نجی اور کاروباری زندگی تو معمول کے مطابق ہے لیکن انتخابات سے پہلے معمول کے حالات اب تک پیدا نہیں ہوپائے ہیں۔

حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے احتجاج کا روایتی مرکز ریگل چوک ہو یا لالو کھیت یا پھر لیاری، آپ کو چیدہ چیدہ علاقوں میں متحدہ قومی موومینٹ کے جھنڈے اور بعض جگہوں پر بینرز تو نظر آئیں گے اور کہیں کہیں پیپلز پارٹی یا کسی اور جماعت کا ماضی میں لگایا گیا اکا دکا جھنڈہ، تصویر یا بینر وغیرہ، لیکن عمومی طور پر شہر میں انتخابات کی کوئی تیاری نظر نہیں آتی۔

نیو چالی کا علاقہ کراچی کی پرنٹنگ اور پبلشنگ کے کاروبار کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ وہاں کے پرنٹر ارشاد علی اس صورتحال سے پریشان ہیں کیونکہ انہیں توقع تھی کہ الیکشن کے موقع پر سیاسی جماعتوں کے انتخابی لٹریچر پوسٹرز اور پمفلٹس وغیرہ کی چھپائی کا کام زیادہ ملے گا لیکن اب تک ایسا نہیں ہوا ہے۔

وہ کہتے ہیں ’اب الیکشن میں بیس پچیس دن رہ گئے ہیں اس لیے اب الیکشن کی پرنٹنگ کا کام شروع ہوجانا چاہیے جو کہ اب تک نہیں ہوا۔‘

ابھی کاغذات نامزدگی کی واپسی کا مرحلہ باقی ہے

ان کا کہنا ہے کہ انہیں یہ توقع نہیں تھی کہ الیکشن کے موقع پر پرنٹنگ کے کام میں مندی رہے گی لیکن چونکہ اس بار سیاسی جماعتیں بھی اس بارے میں مخمصے کا شکار تھیں کہ وہ انتخابات میں حصہ لیں گی یا نہیں اس لئے الیکشن کی تیاریاں بھی شروع نہیں ہوسکیں۔

پرنٹنگ کی جدید ٹیکنالوجی پینافلیکس ان دنوں بڑا مقبول ہے اور حالیہ برسوں میں سیاسی جماعتوں نے بھی تشہیر کے لئے اس ٹیکنالوجی کا سہارا لینا شروع کیا ہے لیکن پینا فلیکس پرنٹنگ کے کاروبار سے وابستہ خواجہ ریاض الحسن کہتے ہیں کہ الیکشن کے موقع پر انہیں اپنے کاروبار میں تیزی کی جو امید تھی وہ پوری ہوتی نظر نہیں آرہی۔

’کراچی میں ابھی تک الیکشن کے سلسلے میں کوئی سرگرمی شروع نہیں ہوئی ہے اور پرنٹنگ کا کام بالکل شروع نہیں ہوا ہے اور یہ غیرمعمولی بات ہے۔‘

خواجہ ریاض الحسن تو کاروباری آدمی ہیں اور وہ تو مارکیٹ کی زبان میں ہی بات کرنے کو ترجیح دیں گے لیکن کراچی میں واقع وفاقی اردو یونیورسٹی کے پروفیسر اور سینئر صحافی توصیف احمد بھی یہ کہتے ہیں کہ اس بار وہ گہما گہمی اور تیاریاں نظر نہیں آرہی ہیں جو کسی بھی انتخابات سے قبل دیکھنے میں آتی ہیں۔

وہ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کی جانب سے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ اور سیاسی جماعتوں کے درمیان الیکشن لڑنے یا نہ لڑنے کے بارے میں اختلافات کو انتخابات کی فضاء پیدا نہ ہونے کے اہم اسباب سمجھتے ہیں۔

’ایمرجنسی اور پی سی او کے نافذ ہونے اور میڈیا پر عائد کی گئی پابندیوں سے عام شہری میں یہ احساس زیادہ پیدا ہوگیا کہ انتخابات کا انعقاد مشکل ہوگا پھر سیاسی جماعتوں کے مختلف مؤقف خاص کر بائیکاٹ کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازعے کی وجہ سے الیکشن کا عمل شروع نہیں ہوسکا‘۔

ملک کی تاریخ میں پہلی بار انتخابات خودکش حملوں کے خوف کے سائے میں ہورہے ہیں جس کو بنیاد بناکر حکومت نے سیاسی ریلیوں پر پہلے ہی پابندی عائد کررکھی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ ستائیس دنوں میں سیاسی جماعتیں کس طرح اپنی اپنی انتخابی مہم کو کامیابی کے ساتھ شروع اور مکمل کرپاتی ہیں۔

حیدرآباد سے نامہ نگار علی حسن کے مطابق حیدرآباد سمیت اندرون سندھ کے دوسرے شہروں اور قصبوں میں بھی انتخابات کی گہما گہمی نظر نہیں آرہی ہے۔

نہ تو سیاسی پارٹیوں کے بینرز اور جھنڈے نظر آرہے ہیں اور نہ ہی انتخابات سے قبل ہونے والی کارنر میٹنگز اور جلوس منعقد ہورہے ہیں جس کی بناء پر اب تک انتخابات کا ماحول پیدا نہیں ہوا ہے جبکہ بظاہر عوام انتخابات کے عمل سے لاتعلق نظر آتے ہیں۔

ان کے مطابق مقامی مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں آٹے سمیت دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافے اور ملک کی مجموعی سیاسی بے یقینی کی صورتحال کی وجہ سے انتخابات کی فضاء پیدا نہیں ہوپائی ہے۔

بلوچستان

بلوچستان میں سیاسی جماعتیں تاحال کوئی باقاعدہ انتخابی مہم شروع نہیں کر پائیں جس کی ایک وجہ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل جماعتوں کا بائکاٹ کے حوالے سے حتمی فیصلہ نہ کر پانا ہے۔

ان اتنخابات میں حصہ لینے والی جماعتیں جیسے پاکستان مسلم لیگ (ق) پاکستان مسلم لیگ (ن) جمعیت علماء اسلام اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے اپنے امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے اور ان جماعتوں کے ساتھ ساتھ آزاد امیدوراوں نے محدود پیمانے پر انتخابی مہم شروع کی ہے جس میں چھوٹے چھوٹے اجلاس منعقد کرنا شامل ہے۔ شہروں میں نہ تو کہیں پوسٹر نظر آتے ہیں اور ناں ہی کہیں بینرز وغیرہ بس اخبارات کی حد تک بیان بازیاں جاری ہیں۔

بینر پوسٹرچھاپنے والےبھی پریشان ہیں

بلوچستان میں قوم پرست جماعتیں جیسے پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی سردار عطاءاللہ مینگل کی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی اور ڈاکٹر عبدالحئی کی جماعت نیشنل پارٹی اب بھی اس اے پی ڈی ایم کا حصہ ہیں جو انتخابات سے بائکاٹ کرنے کے حق میں ہیں لیکن تاحال یہ جماعتیں کوئی حتمی فیصلہ نہیں پائیں کہ آیا انتخابات میں حصہ لیا جائے گا یا نہیں۔

نواب اکبر بگٹی کی جماعت جمہوری وطن پارٹی حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے اور اس مرتبہ اس جماعت کو کوئی انتخابی نشان بھی نہیں دیا گیا۔ بلوچ اور قوم پرست جماعتوں کے بائیکاٹ سے جمعیت علماء اسلام کو فائدہ پہنچے گا۔

مبصرین کے مطابق پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کا اتحاد بلوچستان کی سطح پر جمعیت علماء اسلام کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھا جا رہا تھا لیکن دونوں پشتون قوم پرست جماعتوں کا انتخابات کے حوالے سے متفقہ لائحہ عمل نہ ہونے سے جمعیت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

نواز شریف اور بینظیر بھٹوبائیکاٹ، نو بائیکاٹ
انتخابات: اپوزیشن میں اتفاق رائے کا فقدان
مسلم لیگانتخابی میدان سے
قومی انتخابات کے ’بلدیاتی‘ امیدوار
انتخابی سرگرمیاں؟
انتخابی سرگرمیاں کہیں نظر نہیں آرہیں
نواز شریف اور بینظیر بھٹواےپی ڈی ایم اپرہینڈ
انتخابات میں حصہ لینے کی دوڑ میں بریکیں
جانچ پڑتال شروع
کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا آغاز ہو گیا
اسی بارے میں
پی پی پی مسلم لیگ(ن) سے خوش
10 December, 2007 | پاکستان
قاف لیگ پر دھاندلی کا الزام
11 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد