آٹھ جنوری ریفرنڈم کا دن: نواز شریف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ آٹھ جنوری الیکشن کا نہیں بلکہ ریفرنڈم کا دن ہوگا ’جس میں پاکستان کی فتح اور آمریت کی شکست ہوگی‘۔ فیصل آباد میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آٹھ جنوری کو ’پاکستان کو چاہنے والوں اور اس کو تباہ کرنے والوں کے درمیان مقابلہ ہوگا‘۔ نواز شریف نے کہا کہ وہ بھی انتخابات کے بائیکاٹ کے حق میں تھے لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک جماعت بائیکاٹ کرے اور باقی انتخابات میں حصہ لیں انہوں نے کہا کہ وہ مشرف اور ان کے حامیوں کے لیے میدان کھلا نہیں چھوڑ سکتے۔ حریف جماعتوں پر وار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ق لیگ جب ووٹ مانگنے آئے تو اس سے پوچھا جائے کہ وہ کس کے لیے ووٹ مانگ رہی ہے ’کیا ان کا یہ ووٹ مشرف کے لیے ہے جنہوں نے آئین کی خلاف ورزی کی اور ایک منتخب وزیراعظم کو جلا وطن کیا‘۔ نواز شریف نے کہا کہ صدر مشرف کے وجہ سے آج ملک کراچی سے خیبر تک خون میں نہایا ہوا ہے۔نواز شریف نے کہا کہ جسٹس افتخار پوری قوم کے ہیرو ہیں اور وہ اپنے عہدے پر بحال ہوں گے۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’عدلیہ کو اس لیے ہٹا دیا گیا کیونکہ صدر مشرف دوسری مرتبہ منتخب نہیں ہو سکتے تھےاور نئی عدلیہ سے اپنے حق میں فیصلہ لیکر وہ غیر آئینی صدر بن گئے ہیں‘۔ نواز شریف نے کہا کہ ملک کو ایٹمی طاقت بنانے والےڈاکٹر قدیر کو قید کر کے رکھا گیا ہے جبکہ بھارت میں ایٹمی تجربے کرنے والے سائنس دان کو ملک کا صدر بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ایجنڈا ہے کہ چیف جسٹس اور اور ان تمام ججوں کو جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں لیا ہے انہیں بحال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کو روکا جائے گا اور روز گار لوگوں کی دہلیز پر دستک دے گا۔ |
اسی بارے میں آٹھ جنوری: انتخابی سرگرمیاں غائب08 December, 2007 | پاکستان عام انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل08 December, 2007 | پاکستان ’خدا کے لیے وکلاء کا ساتھ دیں‘ 07 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||