نثار کھوکھر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سکھر |  |
 | | | فاطمہ بھٹو اپنی والدہ غنویٰ بھٹو کے لیے اپنی پھوپی بینظیر بھٹو کے خلاف انتخابی تحریک چلائیں گی |
پاکستان کے آئندہ انتخابات میں ایک ہی خاندان کے لوگ ایک دوسرے خلاف الیکشن لڑ رہے ہیں۔ یہ پاکستان کی سیاسی رسہ کشی کوئی نئی بات نہیں مگر لاڑکانہ کے بھٹو خاندان کی دو خواتین پہلی بار ایک دوسرے خلاف انتخابی میدان میں اتر رہی ہیں۔ لاڑکانہ کے حلقہ این ای دو سو چار سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔ جبکہ بینظیر کےمقابلے میں ان کےمرحوم بھائی مرتضٰی بھٹو کی بیوہ غنویٰ بھٹو نے بھی کاغذات نامزدگی داخل کیے ہیں۔ پیپلز پارٹی شہید بھٹو کی سربراہ غنویٰ بھٹو کی انتخابی مہم میں مرتضی بھٹو کی بیٹی فاطمہ بھٹو بھرپور حصہ لے رہی ہیں۔ انتخابات میں لاڑکانہ کے حلقوں سے خواتین امیدواروں کی روایت بھی ماضی کی طرح قائم ہے۔ انیس اٹھاسی کے انتخابات میں لاڑکانہ سے قومی اسمبلی کے تمام تین حلقوں سے پیپلز پارٹی کی حمایت یافتہ خواتین بینظیر بھٹو، نصرت بھٹو اور بیگم اشرف عباسی کامیاب ہوئی تھیں۔ انتخابی عمل کے دوران خونی رشتے ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ لاڑکانہ کی انتخابی تاریخ میں اس قسم کے مقابلے دوبارہ ہو رہے ہیں۔ خونی رشتوں کے درمیاں انتخابی مقابلے کی مثال انیس سو نوے کے انتخابات میں تب نظر آئی تھی جب پیپلز پارٹی کے رہنما نواب شبیر چانڈیو نے اپنے والد سلطان احمد چانڈیو کےخلاف انتخابات میں حصہ لیا اور انہیں ہزاروں ووٹوں کی لیڈ سے شکست دی۔ بعدازاں شبیر چانڈیو نے پی پی پی سے وفاداری تبدیل کی اور مسلم لیگ قاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔
 | سومرو خاندان: بھتیجی و چچا  دوسری جانب آئندہ انتخابات میں ضلع جیکب آباد کے حلقے این ای دو سو آٹھ سے پاکستان کےنگراں وزیراعظم محمد میاں سومرو کی بہن ملیحہ ملک اپنے چچا اور سینئر سیاستدان الہی بخش سومرو کےخلاف انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں  |
دوسری جانب آئندہ انتخابات میں ضلع جیکب آباد کے حلقے این ای دو سو آٹھ سے پاکستان کےنگراں وزیراعظم محمد میاں سومرو کی بہن ملیحہ ملک اپنے چچا اور سینئر سیاستدان الہی بخش سومرو کےخلاف انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ جیکب آباد کے مقامی لوگوں کےمطابق ملیحہ پہلی بار انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں اور انہیں اپنے نگراں وزیراعظم بھائی کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ حالیہ دنوں میں محمد میاں سومرو دو مرتبہ جیکب آباد کا دورہ کر چکے ہیں۔ ملیحہ ملک کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہیں گذشتہ سینیٹ انتخابات میں پیپلز پارٹی نے اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔ مگر وہ کامیاب نہ ہوسکی تھیں۔ دوسری جانب ڈیرہ غازی خان کےحلقہ این ای ایک سو بہتر کے انتخابات میں سردار فاروق لغاری کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کےکزن منصور لغاری آزاد امیدوار کی حیثیت سے ان کے سامنے کھڑے ہیں۔ منصور لغاری ضلع ناظم ڈیرہ غازی خان مقصود احمد لغاری کے بھائی اور قومی مفاہمتی آرڈیننس کے تحت وطن واپس آنے والوں میں سے ایک ہیں۔ پاکستان کی اقتداری سیاست میں خاندانی اختلافات کےباعث ایک ہی خاندان کے افراد کا ایک دوسرے سےمقابلہ کرنے کی روایات ماضی کی طرح اب بھی زندہ ہیں۔ ان روایات کےبارے میں صحافی مسعود انصاری کا کہنا ہے کہ انتخابات کےدوران امیدواروں کو اقتدار پہلے اور والد یا چچا کا رشتہ بعد میں نظر آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے امیدوار انتخابات کی ڈھال میں دراصل خاندانی اختلافات لڑ رہے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے خاندانی معاملات کابدلہ انتخابی میدان میں لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ |